منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سپر سپیڈ کارگو منصوبہ ،سعودی عرب سے دبئی کا سفر کتنے منٹ میں طے ہوگا؟پوری دنیا حیران

datetime 1  مئی‬‮  2018 |

دبئی(این این آئی)دبئی بین الاقوامی بندرگاہ کمپنی نے بتایا ہے کہ اس نے ورجن ہائیپر لوپ ون کمپنی کے تعاون سے دنیا کا تیز ترین کارگو ٹرین سسٹم تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کمپنی کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے کم سے کم 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور اس پر سرمایہ کاری کے لیے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بھارت کے شامل ہونے کے امکانات ہیں۔دبئی بین الاقوامی بندرگاہ کونسل کے

چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر سلطان احمد بن سلیم کا کہنا تھا کہ ہائپرلوپ ون کمپنی کے ساتھ ایک باضابطہ تقریب میں سپر سپیڈ ٹرین منصوبے پر اتفاق کیا گیا۔ اس معاہدے کو برطانوی ارب پتہ رچرڈ پرانسن کا تعاون حاصل ہے جو ہائیپر لوپ کے سب سے بڑے سرمایہ کار قرار دیے جاتے ہیں۔دبئی میں ہونے والی اس تقریب میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور حاکم دبئی الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بھی شرکت کی۔دونوں کمپنیوں نے ہائپر لوپ کے نام کو ’بین الاقوامی بندرگاہ کارگو سپیڈ‘ کا نام دینے سے اتفاق بھی کیا۔ سلیم کا کہنا تھا کہ ہم ٹرانسپورٹ کی دنیا میں ایک نیا انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ سامان کی ترسیل کی تیز ترین کارگو سروس کی تکمیل کے بعد سعودی عرب سے دبئی کے درمیان سامان کی تریل 14 گھنتے سے کم ہو کر پونے گھنٹے یا ایک گھنٹے تک آجائے گی۔خیال رہے کہ بین الاقوامی دبئی کمپنی کے 40 ممالک میں 78 اسٹیشن ہیں۔ یہ کمپنی سالانہ 80 مال بردار بحری جہازوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔درایں اثناء ورجن ہائپرلوپ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو روپ لویڈ کا کہنا تھا کہ ابتدائی طورپر تجرباتی کارگو ٹرین سروس 10 سے 15 کلو میٹر تک چلائی جائے گی۔ اس کے بعد منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے کام آگے بڑھایا جائے گا۔لویڈ کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ منصوبہ بھارت اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ہے مگر اسے امریکا اور کینیڈا تک توسیع دی جاسکتی ہے۔ لویڈ کا کہنا تھا کہ سنہ مجھے یقین ہے کہ رواں سال کے آخر تک ہمارے پاس حکومت کی فنڈ سے تین منصوبے شروع کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ ان میں سے دو سنہ 2019ء اور ایک 2020ء میں شروع کیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…