منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں ذات پات اور تفریق سے تنگ300 ہندوں نے مذہب چھوڑ دیا

datetime 30  اپریل‬‮  2018 |

احمد آباد(آئی این پی) بھارتی ریاست گجرات کے قصبے اونا کے 300 دلتوں نے ذات پات کی بنیاد پر تشدد اور تفریق سے تنگ ہوکر ہندو مذہب ترک کرکے بدھ مذہب اختیار کرلیا ۔ بھارتی میڈیاکے مطابق حکمران جماعت بی جے پی جہاں اپنی ملکی تاریخ کو مسخ کرنے کے درپے ہے وہیں ملک میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ آئے روز غیرملکی طلبا، مسیحی برادری، روہنگیا

سمیت بھارت کی دیگر ریاستوں میں بسنے والے مسلمانوں اور خود ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے نیچی ذات(دلت) کے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہندو انتہاپسندوں کی درندگی سے تنگ اقلیتی برادری یا تو دیگر ممالک میں ہجرت کرنے پرمجبور ہے یا پھراپنے بچا کے لئے مذہب ہی تبدیل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے قصبے اونا کے نواحی گاں سمادھیالہ میں ذات پات کی بنیاد پر تفریق اور تشدد سے تنگ و مجبور تقریبا 300 ہندوں نے اپنے مذہب کو خیرباد کہہ دیا ہے اور اب وہ باقاعدہ طور پر بدھ مذہب میں داخل ہوگئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جولائی 2016 میں گاں کے رہائشی بالوسرویا نامی شخص کے بیٹوں اور بھتیجوں کو ہندو انتہا پسندوں نے گائے مارنے کے الزام میں ناصرف کوڑے مار کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ انہیں گاں میں سرِعام نیم برہنہ حالت میں گھمایا گیا تھا۔واقعے کے متاثرین کا کہنا ہے کہ 2 سال گزر جانے کے باوجود ہمیں انصاف نہیں ملا اور نا ہی حکومت کی جانب سے کوئی مدد کی گئی بلکہ تشدد کرنے والے اونچی ذات کے ہندو ملزمان ضمانت پر رہا ہو کر سرِعام گھوم رہے ہیں، ہم دلتوں پر مظالم اور تشدد کی علامت بن گئے تھے، ہمیں اب بھی تفریق کا سامنا ہے، ہماری برادری کے لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اتنے ظلم سہنے کے باوجود آپ ہندو مذہب میں کیوں قائم ہیں؟ ہم آج بھی اونا کے تشدد کی ویڈیو کو دیکھ کر کانپ جاتے ہیں۔

اس لئے ہم برابری اور عزت کے لئے ہندومذہب چھوڑ کر نئی زندگی کا آغاز کررہے ہیں۔سمادھیالہ گاں میں ہونے والی باضابطہ تقریب میں اونچی ذات کے ہندوں کے تشدد کا نشانہ بننے والے گھرانے سمیت 3 سو سے زائد دلتوں نے بدھ مذہب اختیار کیا، بدھ مذہب میں داخل ہوتے ہوئے انہیں 22 اصولوں پر عمل کرنے کا عہد کرایا گیا۔ جس میں ہندو دیوی، دیوتاں کو خدا نہ ماننے اور ان کی پوجا نہ کرنے کا عہد بھی شامل تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…