منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قوم بیدار ہوئی تو موجودہ حکومت کو سمندر برد کر دے گی، ایرنی مذہبی رہ نما

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

تہران(این این آئی)ایران کے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی نے خبردار کیا ہے کہ قوم بیدار ہوئی تو موجودہ ایرانی رجیم کو کوئی ٹھکانہ نہیں ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام حکومتی عمال کی لوٹ مار اور نا اہلی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی مذہبی رہ نما نے ان خیالات کا اظہار ایرانی وزیر برائے لیبر علی ربیعی سے ملاقات کے موقع پر کیا۔

انہوں نے کہا کہ قوم بیدار ہوئی تو ہمیں اٹھا کر سمندر برد کر دے گی۔حکومتی عہدیداروں میں کرپشن کے پھیلتے ناسور پر بات کرتے ہوئے آیت اللہ علی جوادی نے کہا کہ عوام لوٹ مار اور عہدیداروں کی نا اہلی کو برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے ایران کی موجودہ مشکلات کے دور کر ‘بدترین دور‘ سے تشبیہ دی اور کہا کہ یہ بات ہرایک کو بہ خوبی معلوم ہونی چاہیے کہ اگر عوام بیدار ہوئی تو ایرانی رجیم کو ٹھکانہ نہیں ملے گا اور اس میں شامل تمام عناصر سمندر برد ہو جائیں گے۔آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی نے کہا کہ عوام حکومتی عہدیداروں کی لاپرواہی، نا اہلی اور قومی خزانے میں لوٹ مار کو برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایران دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود مفلسی کا شکار ہے اور اس کے عوام بھوک اور ننگ میں مبتلا ہیں۔انہوں نے ایران کا تقابل چین کے ساتھ کیا اور کہا کہ چین میں 800 ملین آبادی ہے اور ان کا کوئی دین اور مذہب نہیں۔ ہماری آبادی 80 ملین سے بھی کم ہے مگر ہم چین سے کیوں کر پیچھے ہیں۔ کیا ہمارے ہاں قومی وسائل کا غلط استعمال تمام مسائل کا سبب تو نہیں۔خیال رہے کہ ایران میں حالیہ عرصے میں مہنگائی ، حکومتی لوٹ مار اور غربت کے خلاف عوام کی کئی تحریکیں اٹھی ہیں تاہم ایرانی رجیم طاقت کے ذریعے عوامی بیداری کی تحریکوں کو کچل دیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…