پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اس کی قبر کھودی جارہی تھی کہ وہاں ہندو پہنچ گئے اور۔۔مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی ایک اور تاریخ رقم، مندر میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد بیدردی سے قتل کی گئی ننھی آصفہ کی لاش کیساتھ ہندوئوں نےوالد اور دادا کے سامنے کیا سلوک کیا؟افسوسناک انکشاف

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں کمسن مسلمان بچی آصفہ کی اجتماعی آبروریزی اور سفاکانہ قتل کے واقعے نے جہاںبھارت کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیاہے وہیں بھارت میں بسنے والی اقلیتوں خصوصاََ مسلمانوں کے ساتھ انتہا پسند ہندئوں کے انسانیت سوز سلوک نے بھی سب کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ مقتولہ آصفہ بانو کے خاندان کو انتہا پسند ہندوئوں نے

علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے، اور سفاکیت کی حد یہ ہے کہ ہندو شدت پسندوں نے ننھی لڑکی کی تدفین کے لئے قبر کی جگہ بھی نہیں دی۔ ننھی آصفہ اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر خود بھارتی میڈیاکی رپورٹس گواہی دے رہی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقہ کٹھوعہ میں ظلم کی ایسی داستان رقم کی گئی ہے جو رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق آٹھ سالہ آصفہ بانو کی مسخ شدہ لاش کو فنانے کے لئےاس کے اہل خانہ کٹھوعہ میں قبر کھودنے میں مصروف تھے کہ اسی دوران گاؤں کے سب ہندو اکٹھے ہو کر آ گئے اور قبر کی کھدوائی رکوا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ زمین مسلمانوں کی نہیں، وہ بچی کو دفن کرنے کے لئے کہیں اور لے جائیں۔ اس وقت شام ڈھل چکی تھی لیکن مظلوم آصفہ کے بے کس ورثاء کے لئے گاؤں چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ اپنے گاؤں سے نکلے اور رات کی تاریکی میں دشوار گزار پہاڑی راستوں پر چلتے ہوئے آٹھ کلومیٹر دور جا کر رکے جہاں بالآخر بچی کی تدفین کی۔ اس ویران مقام پر آصفہ کی چھوٹی سی قبر اس پر ہونے والے ظلم کی داستان بیان کرتی دکھائی دیتی ہے۔ آصفہ کے کے دادا نے اس ظلم پر آنسو بہاتے ہوئے کہا ’’اس کمسن کی لاش کے لئے کتنی زمین چاہیے تھی؟ ہماری بانہوں میں اس بچی کی لاش تھی جس کی عصمت دری کرکے اسے قتل کردیا گیا۔ ایسے وقت پر گاؤں

والوں کو بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔‘‘کمسن آصفہ کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ جب اس کی لاش ملی تو وہ شام کا وقت تھا۔ آصفہ کی تدفین کے لئےجب انہوں نے قبر کھودنا شروع کی تو گاؤں کے شدت پسند ہندو جمع ہوکر آگئے اور انہوں نے آصفہ کی قبر کھودنے سے منع کردیا۔ بے بس اہلخانہ شام ڈھلنے کے بعد اپنی بچی کی لاش لے کر چلے او ررات کے اندھیرے میں آٹھ کلومیٹر کی دوری پر لیجاکر اسے دفن کیا۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…