جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

میرے خلاف کیا سازش ہورہی ہے اور کون کون سازش کا حصہ ہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 13  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہاہے کہ ان کے خلاف دائر ریفرنس کے مدعی ’سازش‘ کا حصہ ہیں اور اصل شکایت کنندہ کوئی اور ہے۔جسٹس شوکت عزیز نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) سے درخواست کی کہ ان کے اظہارِ وجوہ کے نوٹس کو رد کیا جائے کیونکہ انہوں نے فوج کے خلاف منفی ریمارکس نہیں دیئے۔واضح رہے کہ رکنِ قومی اسمبلی جمشید دستی کی جانب سے دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ

فیض اباد میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے دیئے گئے دھرنے سے متعلق ایک کیس سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنا دینے والی مذہبی جماعتوں اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر اعتراض اٹھایا تھا جس میں مسلح افواج کی جانب اہم کردار ادا کیا گیا تھا۔مذکورہ ریفرنس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد رواں ماہ 6 فروری کو ایس جے سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ رائے دی گئی کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایس جے سی میں اپنا جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ گان صرف ’سازش‘ کا حصہ ہیں جنہوں نے کسی اور کے ایما پر ریفرنس دائر کیا تاہم اس حوالے سے ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر پیش بھی کیے جا سکتے ہیں‘۔خیال رہے کہ ایس جے سی ایک سپریم ا?ئینی ادارہ ہے جسے ا?ئین کے ا?رٹیکل 209 کے تحت بنایا گیا ہے جو جج صاحبان اور اہم سرکاری عہدوں کے پر فائز ہونے والی شخصیات کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرتا ہے۔جسٹس شوکت صدیقی نے ایس جے سی کو تحریری جواب میں وضاحت پیش کی کہ فوج ایک آئینی ادارہ نہیں بلکہ آئین کے تحت اس کی تخلیق ہوئی ہے اس لیے یہ ادارہ آئینی عدالتوں کے دائرہ کار سے باہر نہیں۔انہوں نے آئین کے آرٹیکل 243 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو دفاعی فورسز پر مکمل کنٹرول اور اختیار ہوتا ہے نہ کہ فوج کو وفاقی ادارے پر

۔جسٹس شوکت صدیقی نے مزید کہا کہ فوج کی ذمہ داری پاکستان کو درپیش خارجی مداخلت سے بچانا اور سول حکومت کی درخواست پر قانون کی عملداری کو برقرار رکھنا ہے اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وفاقی حکومت کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کا پابند رکھے۔خیال رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ایک ریٹائرڈ ملازم کی جانب سے بھی دائر ریفرنس کا سامنا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عدالتِ عالیہ کے جج نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر بغیر اجازت رنگ و روغن کروایا۔جس پر جج نے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی کہ مذکورہ ریفرنس کا اوپن ٹرائل کیا جائے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…