پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

پاکستان کے خلاف افغان صدر کی خوفناک سازش پختونوں نے ناکام بنا دی، اشرف غنی نقیب قتل کیس کے ذریعے کیا گھنائونا کام کروانا چاہتے تھے، پختون رہنمائوں نے بولتی ہی بند کر کے رکھ دی

datetime 10  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ  ڈیسک)نقیب قتل کیس میں پختونوں کو بھڑکانے کی افغان سازش ناکام ، کابل مظاہروں، غنی کی حمایت سے اسلام آباد دھرنا مظاہرین کا اظہار لاتعلقی ، پاکستانی آئین کو مانتے ہیں ،پاکستان کے موقر قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے موقر قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نقیب قتل کیس میں پختونوں کو بھڑکانے کی افغان سازش

کو اسلام آباد دھرنا انتظامیہ نے ناکام بنا دیا ہے۔ آل پختون قومی جرگہ کے اسلام آباد دھرنے کی انتظامیہ اور شرکا نے افغان صدر کی جانب سے دھرنے کی حمایت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پختون قبائل کا دھرنا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور افغان صدر کا بیان اور اس کے بعد افغانستان میں دھرنے کی حمایت میں ہونیوالے احتجاجی مظاہروں کا اسلام آباد دھرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ دھرنا انتظامیہ کے ارکان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد دھرنا کے مطالبات پاکستانی عوام کے پاکستانی حکومت سے ہیں جو ایسے ہی ہیں جسے کہ بچہ اپنی ماں سے کوئی مطالبہ کرے۔ پختون قبائل کو افغان صدر، بھارت یا امریکہ کی طرف سے کوئی امداد چاہئے نہ حمایت۔ یہ تینوں پختونوں کے سب سے بڑے قاتل ہیں ہمیں پاکستان میں مر جانا قبول ہے لیکن بھارت، امریکہ یا ان کے کسی کٹھ پتلی کی مدد قبول نہیں۔ ملک دشمن قوتیں پہلے دن سے پختونوں کے دھرنے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن محسود نوجوانوں نے پہلے روز سے دھرنے کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے اور ایسے کسی مفاد پرست کو من مانی کرنے کی اجازت نہیں دی۔ دھرنا انتظامیہ کے ارکان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین اور قانون کو مانتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم نے اپنے مطالبات پاکستان کی حکومت کے سامنے رکھے ہیں اگر ہم پاکستان مخالف ہوتے تو ہم اسلام آباد ے بجائے دہلی میں جا کر اپنے مطالبات پیش کرتے

جیسے براہمداغ بگٹی نے کیا۔ہم پاکستانی ہیں اس لئے اسلام آباد میں احتجاج ک ررہے ہیں ، حیر بیار مری کی طرح کسی یورپی ملک میں جا کر نہیں بیٹھے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز جمعہ کے دن افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ جنوبی وزیرستان کے عوام کے مطالبات آئینی و قانونی ہیں جس پر حکومت پاکستان کو فوری توجہ دینی چاہئے۔

افغان صدر نے مزید شرپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں تاریخی پشتون مارچ کی مکمل حمایت کرتا ہوں ۔ یہ مارچ باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کی یاد تازہ کرے گا جس طرح پاکستان میں وکلا تحریک کامیاب ہوئی اسی طرح امید ہے کہ پشتون مارچ بھی کامیاب ہو گا۔ انہوں نے مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ کابل حملوں کے بعد میں نے کہا تھا کہ خطے کے عوام دہشتگردی کے

خلاف متحد ہو جائیں۔ پشتون مارچ اسی بیان کا ردمل ہے جبکہ کابل میں بھی اسلام آباد دھرنا شرکا کے مطالبات کے حق میں مظاہرے ہوئے ، کابل میں ہونے والے مظاہروں کو افغان سکیورٹی فورسز نے مکمل تحفظ فراہم کیا۔



کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…