جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

پاکستان پر دباؤ ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا‘امریکی محکمہ خا رجہ کا کانگریس کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

واشنگٹن(آن لائن) امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی عسکری امداد روک کر دباؤ ڈالنے کا حربہ بری طرح شکست سے دوچار ہوا اور اسلام آباد تاحال اپنی پالیسی پر گامزن ہے۔

امریکا کی نئی جنوبی ایشیاء سے متعلق حکمت عملی کے حوالے سے سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی میں امریکی حکام اور پارلیمانی وفد نے اعتراف کیا کہ اسلام آبادکے بغیر افغانستان میں امن کا قیام ناممکن ہے۔کمیٹی کے ریپبلیکن چیئرمین سینیٹر رابرٹ کروکر نے پاکستان کی عسکری امداد روکنے کے فیصلے کی بھرپور تائید کی۔سینیٹر نے کہا کہ ‘جب تک اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتا رہے گا اس وقت تک پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی عسکری امداد پرپابندی ہوگی، یہ ایک واضح لکیر ہے، دہشت گرد عام شہریوں سمیت امریکی اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہیں’۔دوسری جانب کمیٹی میں موجود سینیٹر بین کارڈن نے استفسار کیا کہ ‘کیا پاکستان کی عسکری امداد روکنے سے کوئی تبدیلی آئی’۔جس پر ڈپٹی سیکریٹری اسٹیٹ جان سیلوان نے جواب دیا کہ ‘یقیناً (پاکستان کی پالیسی) میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اس لیے ہم اسے حتمی اور ناقابل تنسیخ سمجھیں گے’۔ایک سینیٹر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ‘ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کیے گئے لیکن تاحال (حقانی نیٹ ورک کے خلاف) قابل ستائش اقدامات نہ اٹھانے کی وجہ سے ممکن نہیں کہ عسکری امداد سے پابندی ختم کردی جائے ’۔سیکریٹری اسٹیٹ جان سیلوان نے کہا کہ‘پاکستان باخوبی ہماری ترجیحات سمجھتا ہے اور عسکری امداد پر پابندی کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس قدم نہیں اٹھائے جائیں گے’۔کمیٹی کے اراکین نے اس امر کا کھل کر اظہار کیا کہ ‘واشنگٹن یقین رکھتا ہے

کہ پاکستان ناصرف اہم اتحادی ہے بلکہ نئی حکمت عملی کی کامیابی میں اْس کا کردار کلیدی ہے’۔جان سیلوان نے اجلاس کے ابتدائی مرحلے میں دستاویز پڑھی جس میں کہا گیا کہ امریکا پاکستان کی عسکرامداد دوبارہ شروع کردے گا تاہم اسلام آباد کو تمام دہشت گردوں کے خلاف ‘حتمی اور پراثر’ ایکشن لینا ہوگا۔جان سیلوان نے کہا کہ امریکا خطے میں تناؤ میں کمی خواہاں ہےاور اس کے لیے پاکستان کے جائزتحفظات کو ضرور دور کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘

ہم دنیا بھر میں پراکسی وار کے مخالف ہیں اور عالمی نظام میں دہشت گردوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے’۔واضح رہے کہ پاکستان نے امریکی اور افغان حکام کو ثبوت پیش کیے ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروپس افغانستان کی سرحدوں میں قائم ٹھکانوں میں منتقل ہو گئے ہیں اور ادھر سے بیٹھ

کر پاکستان میں دہشت گردی کی واردات کرتے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ افغانستان میں بڑھتی بھارتی عملداری سے سیکیورٹی خدشات جنم لے رہے ہیں لیکن امریکی حکام کی جانب سے مسلسل خاموشی ہے۔بھارت افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…