جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عبداعلیم خان کا شہبازشریف کو چیلنج،اہم ترین دستاویزات جاری،سیاست چھوڑنے اور معافی مانگنے کا مشروط اعلان کردیا

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عبدالعلیم خان نے اہم دستاویزات میڈیا اور عوام کیلئے جاری کرتے ہوئے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ غلط اور صحیح کا فیصلہ خود کر لیں کہ 2006میں بننے والی سوسائٹی کو 2009میں ایک بینک نے اور اس سے2010میں میں نے خریدا جسے تمام متعلقہ محکموں کی طرف سے این او سی جاری کیے گئے تھے اور

ریکارڈ کے مطابق ایل ڈی اے نے اس سوسائٹی کو2ستمبر2006کو این او سی،واپڈا نے 26جنوری2011،واسا نے24اگست2017،سوئی گیس نے2010میں اورٹیپا نے 3 فروری 2011 کو این او سی جاری کیا،اسی طرح ایل ڈی ا ے نے اس سوسائٹی کے ترقیاتی کاموں کا معائنہ اور ان پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے30مئی2012کو رہن شدہ پلاٹ ریلیز کر دیے ۔عبدالعلیم خان نے سوال کیا کہ2006میں این او سی حاصل کرنے والی سوسائٹی 2017میں کیسے غیر قانونی ہو سکتی ہے؟ ۔انہوں نے چیلنج کیا کہ گزشتہ20برسوں کے کاروبار کے دوران مجھ پر ایک مرلہ پرائیویٹ یا سرکاری زمین کا قبضہ ثابت کیا جائے تو میں سیاست چھوڑ کر معافی مانگنے کو تیار ہوں، گزشتہ10برسوں سے پنجاب میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ ہیں میرے خلاف قبضے کی کوئی ایک ایف آئی آر دکھا دیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام تر انتقامی کاروائیاں ہیں جس کے خلاف میں پہلے ہی عدالتوں سے رجوع کر چکا ہوں ، پاکستان کی آزاد اور خود مختار عدالتوں پر بھرپور اعتماد ہے ۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ میاں برادران کو اصل پیٹ درد2015میں ایازصادق کے مقابلے میں میرے ضمنی الیکشن سے ہوا ،وہ سن لیں میں کسی مالی مفاد کیلئے ان کے سامنے نہیں جھکوں گا ،صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے حکمران اپنا شوق پورا کر لیں میں عمران خان کے ساتھ زندگی بھر کھڑا رہوں گا ،عبدالعلیم خان نے کہا کہ اسلام آباد میں میرے پراجیکٹ کو2سال پہلے این او سی جار ی ہو گیا تھا جسے اب منسوخ کیا جا رہا ہے اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ میری سوسائٹی کے پلاٹس سی ڈی اے نے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں اور میرا این او سی منسوخ کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ حق اور سچ کے ساتھ ہیں اور ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے کسی صورت مرعوب نہیں ہوں گے ۔ریکارڈ کی درستگی اور حکومتی پراپیگنڈہ زائل کرنے کیلئے میں یہ تمام ریکارڈ ثبوتوں کے ساتھ میڈیا کے حوالے کر رہا ہوں اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی ڈالا جا رہا ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…