اتوار‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2025 

پاکستان ایک غریب ملک۔

datetime 25  اکتوبر‬‮  2014
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 ملک سے 35 ارب روپے کے سونے کی شکل میں منی لانڈرنگ کے سلسلے میں جاری تحقیقات میں ایک ’’بے نام جیولری کمپنی‘‘ بھی شامل ہے حیرت انگیزطور پر ایف بی آر نے اس بے نام جیولری (نو نیم جیولری) کمپنی کو اسی نام سے این ٹی این جاری کیا بلکہ اسی مشکوک نام سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن بھی عمل میں لائی گئی۔

جیولری انڈسٹری کی سرکردہ شخصیات نے نام نہ ظاہرکرنے کی شرط پر بتایا کہ ملک سے سونے کی اسمگلنگ میں ملوث مافیا کافی عرصے سے سرگرم ہے اورزیادہ ترکام دبئی سے کیاجاتا ہے پاکستان میں سونا سستا ہونے اور دبئی میں مہنگا ہونے کی صورت میں سونا دبئی اسمگل کیاجاتا ہے جب کہ پاکستان میں مہنگا اور دبئی میں سستا ہونے کی صورت میں پاکستان لایاجاتا ہے، بعض عناصرسونے کی شکل میں کالادھن اورٹیکس چوری کا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرتے ہیں، چمک کا کام کرنے والے پاکستان سے 23 قیراط سونے کے موٹے موٹے بھاری کڑے بنا کر دبئی ایکسپورٹ کرتے ہیں اور دوران پرواز پارسل کی سیل الگ کرکے چوڑیوں اور کڑوں کو ہاتھ سے دبا اور پچکا کر اسکریپ کی شکل دیدی جاتی ہے۔

دبئی میں سونے کے اسکریپ پرڈیوٹی نہ ہونے کی وجہ سے یہ سونا آسانی سے کلیئر ہوجاتا ہے جسے بعد میں دبئی میں ہی پگھلا کردوبارہ خام سونا بنالیا جاتا ہے تاہم زیرتفتیش اسکینڈل میں سونا واپس نہیں لانا تھا اسی لیے جعلی بینک دستاویزات تیارکی گئیں، سونے کی اسمگلنگ کی حالیہ بڑی وارداتوں میں مالی، ڈرائیور، خانساموں اورچوکیداروں کے نام پرجعلی کمپنیاں بنائی گئیں جب کہ اصل کردارپس پشت رہے، سونے کی اسمگلنگ کی تحقیقات کے دوران تحقیقاتی ایجنسی نے متعلقہ ایسوسی ایشن سے 12 ایکسپورٹرز کے کوائف طلب کیے جن میں  ابدانی، ایم جی امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی، عربیہ گولڈ ایکسپورٹ، گلف جیمز، دبئی کلیکشن، یو ڈی گولڈ، ریئل انٹرنیشنل، گلوبل انٹرنیشنل، ارشد اینڈ سنز،یورو گولڈ اور نو نیم جیولری بھی شامل ہیں۔

ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق نو نیم جیولری کو این  ٹی این 1447914-7 اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر 1703711300155 جاری کیا گیا۔  ذرائع نے بتایا کہ اس اسکینڈل کے 2 مرکزی ملزم بیرون ملک فرار ہوچکے ہیں جب کہ تیسرا اہم ملزم پاکستان میں ہی روپوش ہے، تحقیقات کا دائرہ دبئی تک وسیع کیا جائے تودودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا، پاکستان سے جانے والی جیولری کس طرح دوران پروازاسکریپ میں تبدیل ہوئی، کتنا مال دبئی پہنچایا گیا، تمام حقائق دبئی کے کسٹم سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔


Originally Published in Express. pk

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پروفیسر غنی جاوید


’’اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘‘ آواز بھاری…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…