جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سے افغانستان دہشت گردوں کی حمایت کرنیوالے کون ہیں؟ان سے بچنا ہے تو امریکہ کو کیا کرنا ہوگا؟پاک فوج نے ایسا مشورہ دیدیا کہ امریکیوں کی بھی عقل ٹھکانے آجائے گی

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ آرمی چیف نے امریکی وزیر دفاع کو ملاقات میں باور کرایا کہ جب بھی ڈو مور کی آوازیں آتی ہیں تو دنیا یہ سمجھتی ہے کہ شاید پاکستان کچھ کر نہیں رہا یا کچھ کرنا نہیں چاہتا ، پاکستان کی جو صلاحیت ہے دہشتگردی کے خلاف اس سے بڑھ کر ہم نے کام کیا ہے ، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہے

اب افغانستان کو اپنے حصے کا کام کرنا ہے ،افغانستان کے مسائل کا ذمہ دار پاکستان نہیں، آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان سے دہشتگردوں کی مدد کی حمایت کا جو دعوی کیا جاتا ہے وہ ان لوگوں سے ان کو مدد ہو سکتی ہے جو افغان مہاجرین میں مل کر رہتے ہیں ، ان کو ڈھونڈنا مشکل ہے ، اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی ہونی چاہیے، افغانستان بھارت کے زیر اثر ہے اور پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے،ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ پاک امریکہ دونوں طرف کے تحفظات کو دور کیا جائے گا ۔ وہ پیر کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ امریکی وزیر دفاع سے آرمی چیف کی جی ایچ کیو میں 2 گھنٹے سے زائد ملاقات ہوئی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے ۔ آرمی چیف نے جیمز میٹس کو باور کرایا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی ایک لمبی تاریخ ہے جس میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ۔ اس کی تائید جیمز میٹس نے بھی کی ۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ جب بھی ڈو مور کی آوازیں آتی ہیں تو دنیا یہ سمجھتی ہے کہ شاید پاکستان کچھ کر نہیں رہا یا کچھ کرنا نہیں چاہتا ۔ پاکستان کی جو صلاحیت ہے دہشتگردی کے خلاف اس سے بڑھ کر ہم نے کام کیا ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہے اب افغانستان کو اپنے حصے کا کام کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے امریکی وزیر دفاع کو باور کروایا کہ افغانستان کے مسائل کا ذمہ دار پاکستان نہیں ہے ہم نے پاکستان کے علاقے صاف کر لیے ہیں ۔ امریکی وزیر دفاع کہا کہ افغانستان میں دھماکے ہوں تو وہ الزام لگاتے ہیں کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے جس پر آرمی چیف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اب دہشتگردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں ۔ پاکستان میں 2.7 ملین افغان مہاجرین جو کہ 37 سال سے پاکستان میں رہتے ہیں 1.5 ملین رجسٹرڈ ہیں جو کیمپس میں رہتے ہیں اور بقیہ رجسٹرڈ نہیں ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ وزیر دفاع جیمز میٹس سے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کے متعلق کہا گیا کہ اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی وہ لوگ پاکستان میں دہشتگردی کے ذمہ دار ہیں ۔

افغانستان سے دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملاقات میں آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان سے دہشتگردوں کی مدد کی حمایت کا جو دعوی کیا جاتا ہے وہ ان لوگوں سے ان کو مدد ہو سکتی ہے جو افغان مہاجرین میں مل کر رہتے ہیں ۔ ان کو ڈھونڈنا مشکل ہے ۔ اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی ہونی چاہیے ۔ جب یہ سب چلے جائیں گے تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان سے دہشتگردوں کی مدد ہو رہی ہے یا نہیں ۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہم بارڈر پر بارڈ بھی اسی لیے لگا رہے ہیں تاکہ بارڈر کا کوئی غیر قانونی استعمال نہ ہو سکے ۔ ملاقات میں آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان بھارت کے زیر اثر ہے اور پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ پاک امریکہ دونوں طرف کے تحفظات کو دور کیا جائے گا ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مل بیٹھ کر بات چیت ہمیشہ اچھی رہتی ہے ۔ میرے جائزے کے مطابق آج کی ملاقات کے مثبت نتائج ہونگے ۔ امریکی حکام افغان امن کے لئے پاکستان کا کردار چاہتے ہیں آرمی چیف نے بھی کہا کہ افغان امن پاکستان سے زیادہ کسی ملک کے حق میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی بہت امید ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…