پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

اوبامہ نے بھارت میں جا کر بھارتیوں کو آئینہ دکھا دیا،اسامہ آپریشن سے متعلق سوال کا ایسا جواب کہ بھارتی میزبان کو سانپ سونگھ گیا

datetime 2  دسمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(این این آئی)سابق امریکی صدر بارک اوبامانے مودی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت اپنی مسلم آبادی کی فلاح کے لیے اقدامات کرے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت میں صنفی مساوات اور ،مذہبی رواداری کے موضوعات پر اپنے خطاب میں باراک اوباما کا کہناتھا کہ بھارت اپنی اقلیتوں خاص طور پرمسلم آبادی کی فلاح کے لیے اقدامات کرے ۔ان کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ بھارتی عوام مذہبی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے

والی طاقتوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔امریکا کے سابق صدر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکاان گروہوں میں تفریق نہیں کرتا جو امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوں یا بھارت کو نشانہ بناتے ہوں۔کانفرنس کے دوران میزبان صحافی کرن تھاپر نے کہا کہ بیشتر بھارتی یہ سمجھتے ہیں کہ جب دہشت گردی کی بات کی جاتی ہے تو جس دہشت گردی کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے اسے آپ کسی اور انداز میں دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے درمیان تفریق کرتا ہے جیسے حقانی نیٹ ورک، جو افغانستان میں امریکی مفاد پر حملے کررہے ہیں، اور لشکر طیبہ، جو براہ راست اس ملک پر حملوں میں ملوث نہیں۔جس پر باراک اوباما نے کہا کہ یہ ایسا نہیں جیسا سوچا جارہا ہے۔سابق امریکی صدر نے کہا کہ جس وقت 2008 میں ممبئی حملے ہوئے تو واشنگٹن نے ’بھی انہیں ایسے ہی دیکھا جیسے بھارتی عوام دیکھتے ہیں۔باراک اوباما کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ’ہمارے انٹیلی جنس اور فوجی اہلکاروں کو فوری طور پر بھارتی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تعینات کردیا گیا تھا۔سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی کے معاملے میں پاکستان بہت سے طریقوں سے ایک شراکت دار ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ لیکن کچھ ایسے عناصر ہیں جو کچھ وقت میں ہمارے اچھے شراکت دار نہیں رہے۔اس موقع پر بھارتی صحافی کی جانب سے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والے آپریشن اور اس حوالے سے پاکستانی کردار پر سوال کیا گیا۔جس کے جواب میں باراک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ پاکستانی حکام القاعدہ کے رہنما کی موجودگی کے بارے میں آگاہ تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…