جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بلدیہ فیکٹری ،آگ کیوں اور کیسے لگائی گئی؟ پیپلزپارٹی و سنی تحریک کے درجنوں کارکنوں کے ساتھ کیا ہوا؟250افراد کو زندہ جلادینے کے واقعے کے مرکزی ملزم کے لرزہ خیزانکشافات

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں مرکزی ملزم عبدالرحمن بھولا کے ہائی کورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ بلدیہ کیس میں سماعت کے دوران اہم انکشافات سامنے آگئے۔ مقدمے کے مرکزی ملزم عبدالرحمان عرف بھولا کا بیان حلفی عدالت میں پڑھ کر سنایا گیا جس میں اس نے انکشاف کیا کہ

اس نے قتل وغارت گری ایم کیوایم کی پالیسی کے تحت کی، اور پیپلزپارٹی و سنی تحریک کے درجنوں کارکنوں کو قتل کیا۔عبدالرحمان بھولا نے کہا کہ وہ زکوۃ، فطرہ، کھالوں اور بھتے سے حاصل ہونے والے کروڑوں روپے مرکز نائن زیرو پر جمع کراتا تھا، حماد صدیقی نے اہم ٹاسک کے لیے اسے بلدیہ کا سکیٹر انچارج بنایا اور بلدیہ فیکٹری علی انٹر پرائزز سے 25 کروڑ روپے بھتہ مانگنے کا ٹاسک دیا، 11 ستمبر 2012 کو زبیر عرف چریا نے بتایا کہ فیکٹری میں آگ لگانے کا بندوبست کرلیا ہے، زبیر چریا ساتھیوں کے ساتھ ہائی روف میں فیکٹری پہنچا، 20 سے 25 منٹ بعد زبیر چریانے بتایا کام ہوگیا۔ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے سے قبل حماد صدیقی کو آگ لگانے سے پہلے آگاہ کردیا تھا، حماد صدیقی نے کام ہونے کے بعد ایم کیو ایم کے کارکنوں، ایم این ایز اور دیگر کو فیکٹری پہنچنے کا حکم دیا، رؤف صدیقی نے فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ اس لیے درج کرایا تاکہ ایم کیوایم پر الزام نہ آئے۔ سندھ ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد بلدیہ کیس کے مفرور ملزمان کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں۔واضح رہے کراچی میں بلدیہ کی ٹیکسٹائل فیکٹری میں 2012 میں آتشزدی کا خوفناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں 250 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…