جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اچانک درد پر جب لڑکے کا آپریشن کیا گیا تو پیٹ سے ایسی چیزیں نکل آئیں کہ ڈاکٹرزدیکھتے ہی رہ گئے

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

نئی دہلی(این این آئی)بچے بالعموم فالتو قسم کی اشیاء چوس کر یا نگل کر بیمار پڑتے ہیں اور پھر پتہ چلتا ہے کہ انہیں ایسی چیزوں کے کھانے پینے کا شوق ہوگیا تھا جو بالعموم کوئی شخص پسند نہیں کرتا۔ ایسا ہی کچھ بھارتی صوبے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 16سالہ ارجن کے ساتھ ہوا۔ جو بچپن سے ہی ربر کے ٹکڑے کھانے کی

عادت میں مبتلا ہوگیا تھا لیکن جب ربر کی نرمی سے اسکا دل نہ بھرا تو اس نے کچھ ٹھوس چیزوں سے پیٹ بھرنے کی کوششیں شرو ع کردیں اور پلاسٹک اور لکڑی کے ٹکڑوں سے پیٹ بھرنا شروع کردیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق شروع میں تو اسے کوئی پریشانی نہیں ہوئی لیکن رفتہ رفتہ اسے پیٹ کی تکلیف شروع ہوگئی اور وہ پیٹ کی تکلیف سے پریشان ہونے لگا۔ اسے فوری طور پر اسپتال لیجایا گیا جہاں ایکسرے سے پتہ چلا کہ اسکے پیٹ میں بہت ساری ایسی چیزیں بھری ہوئی ہیں جو وہاں نہیں ہونی چاہئے۔ سرجنز نے آپریشن کیا تو لکڑی اورپلاسٹک کے بے شمار چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ملے جنکا وزن ایک کلو سے زیادہ بتایا جاتا ہے۔ والدین کا کہناتھا کہ انہیں اپنے بچے کی اس عادت اور شوق کا کوئی علم نہیں ہوسکا۔ اگر اسے بہت زیادہ تکلیف نہ ہوتی تو شاید وہ اب تک اسے نظر انداز کرتے رہتے ۔آپریشن شمال مغربی نئی دہلی کے ایک اسپتال میں ہوا۔ والدین نے بچے کی جان بچانے والے سرجنوں کا شکریہ ادا کیاہے ۔ سرجری کرنے والی ٹیم کے نگراں ڈاکٹر گگن دیپ گوئل کا کہناتھا کہ بچہ عین وقت پر اسپتال پہنچا ورنہ کوئی سانحہ ہوسکتا تھا۔ اب اسکی 3سرجریاں ہونگی اور تقریباً700گرام بچی کھچی فالتو چیزیں پیٹ سے نکالی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…