منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

نیب کی ٹیم نے پاکستان پہنچنے پر نوازشریف کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اسحاق ڈار واپس آئیں گے یا نہیں؟ جاوید چودھری کے انکشافات

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

میاں نواز شریف پاکستان واپس آ چکے ہیں‘ یہ سیکورٹی کے بھاری کور اور شاندار پروٹوکول کے ساتھ ائیر پورٹ سے پنجاب ہاؤس شفٹ ہوئے‘ ان کے ساتھ ساٹھ گاڑیاں تھیں‘ عمران خان نے اس پروٹوکول پر شدید احتجاج کیا‘ ان کا کہنا تھا نااہل شخص کو ٹیکس دہندگان کے خرچ پر سرکاری پروٹوکول دینا انتہائی شرمناک ہے‘ وزیراعظم کیسے نواز شریف کو سرکاری پروٹوکول دے سکتے ہیں۔ عمران خان کے اس اعتراض پر آج

منسٹر فارسٹیٹ طلال چودھری نے کہا میں دل سے سمجھتا ہوں میاں نواز شریف کو مناسب سیکورٹی اور پروٹوکول ملنا چاہیے‘ یہ سابق وزیراعظم ہیں‘ رولنگ پارٹی کے سربراہ ہیں اور ملک کے بڑے لیڈر ہیں چنانچہ سیکورٹی ان کا حق ہے لیکن جہاں تک طلال چودھری کا کہنا ہے مجھے ان کے لہجے سے تکبر کی بو آ رہی ہے‘ اس دنیا میں کوئی شخص ناگزیر ‘ کوئی موسٹ امپارٹنٹ نہیں ہوتا‘ ہم سب انسان بھی ہیں اور حقیر بھی ہیں‘ ذوالفقار علی بھٹو قائداعظم کے بعد ملک کے سب سے بڑے لیڈر تھے‘ پاکستان نے آج تک ان جیسا دوسرا لیڈر پیدا نہیں کیا‘ بھٹو صاحب کو پھانسی چڑھے اڑتیس سال ہو چکے ہیں لیکن یہ آج بھی زندہ ہیں‘ انہیں آمروں کے جبر بھی نہیں مار سکے‘ ان بھٹو صاحب نے کہا تھا جب میں مروں گا تو ہمالیہ بھی روئے گا لیکن آپ المیہ دیکھئے بھٹو جیسا شخص بھی جب فوت ہوا تو ہمالیہ تو دور شملہ پہاڑی بھی نہیں روئی‘ آپ کیا چیز ہیں‘ آپ کتنے امپارٹنٹ ہو سکتے ہیں‘ یہ دنیا امپارٹنٹ لوگوں کا قبرستان ہے‘ آپ کو یہاں ہزاروں ناگزیر لوگوں کے اجڑے ہوئے مزار ملیں گے‘ ہم خاکی لوگوں کو تکبر سوٹ نہیں کرتا‘ مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے یہ وہ لوگ ہیں اور یہ وہ خیالات ہیں جن کی وجہ سے میاں نواز شریف اقتدار سے فارغ ہوئے اور یہ حرکتیں اگر اسی طرح جاری رہیں تو میاں نواز شریف سیاست سے بھی

ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مائنس ہو جائیں گے اور شاید یہی وہ لوگ ہیں جن سے بچنے کا میاں شہباز شریف نے مشورہ دیا تھا،کیا میاں نواز شریف کو اتنا پروٹوکول ملنا چاہیے تھا‘ آج نیب کا ڈبل سٹینڈرڈ بھی کھل کر سامنے آ گیا‘ نیب کی ٹیم نے میاں نواز شریف کو ائیر پورٹ کے بجائے پنجاب ہاؤس حاضر ہو کر ان کے وکلاء سے اجازت لے کر سمن پیش کیا‘ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اب شاید اسحاق ڈار واپس نہیں آئیں گے‘ کیا حکومت وزیر خزانہ کے بغیر چلے گی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…