اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

3نومبر کو نواز شریف کی واپسی، اسمبلیاں تحلیل لندن میں پاکستان کی تقدیر کا کیا فیصلہ کر لیا گیا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف فیصلہ کر چکے، وطن واپس آکر اداروں سے ٹکرائو کی جانب جائیں گے، شاہد خاقان اور شہباز شریف منانے کیلئے گئے ہیں مگر ان کی ایک نہیں چلنی، اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ نوا شریف وطن واپسی پر کرینگے۔ڈاکٹر شاہد مسعوداور سلمان غنی کا نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سما نیوز کے پروگرام

’نیوز بیٹ‘میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے معروف اینکر و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی عادت ہے کہ وہ اپنے فیصلوں سے کسی کو آگاہ نہیں کرتے وہ خاموشی سے فیصلہ کر چکے ہیں وطن واپس آنے گا ، وہ محاذ آرائی کی جانب جائیں گے اور اداروں سے ٹکرائو ہو گا اور اس صورتحال کو وہ کس حد تک برداشت کرتے ہیں یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف دراصل نواز شریف کو منانے کیلئے گئے ہیں اور وہ بعد میں کہیں گے کہ ہم نے منانے کی کوشش کی مگر میاں صاحب نہیںمانے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے بلاول کی پیپلزپارٹی میں حیثیت ہے ویسی شہباز شریف کی ن لیگ میں ہے ۔سینئر صحافی سلمان غنی سے جب پروگرام کی میزبان پارس نے سوال پوچھا کہ کیا3نومبر کو واقعی نواز شریف وطن واپس آرہے ہیں اور کیا اسمبلی جاتے ہوئے آپ دیکھ رہے ہیں جس پر سلمان غنی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حکمران جماعت کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ایک مشاورتی عمل جاری تھا۔گزشتہ ہفتے چند اہم ڈویلپمنٹس ہوئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہنگامی طور پر لاہور شہباز شریف سے ملاقات کیلئے پہنچے۔ سلمان غنی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ن لیگ کی سینئر

قیادت کے درمیان حتمی مشاورت ہو چکی ہے جس کا فیصلہ لندن میں نواز شریف نے کرنا ہے اور شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کا لندن جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…