اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

سیلفی کے علاوہ بھی قندیل بلوچ کی مفتی عبد القوی کے ساتھ منظر عام پر نہ آنے والی انتہائی متنازعہ تصاویر کا انکشاف!!

datetime 25  اکتوبر‬‮  2017 |

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی چینل ’’اے آر وائی نیو‘‘ کی رپورٹ کے مطابق معروف ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کی ممکنہ طور پر نئی وجوہات سامنے آئیں جن کے مطابق سیلفیوں کے علاوہ اور بھی ایسی متنازع تصاویر موجود ہوسکتی ہیں جس کی بنا پر اداکارہ کو

قتل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق قندیل بلوچ قتل کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی جس کے مطابق سیلفی کے علاوہ ایسی متنازع تصاویر موجود ہوسکتی ہیں جن کی بنیاد پر ماڈل کو قتل کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ قندیل بلوچ قتل کیس میں مفتی عبدالقوی سے مزید تحقیقات اور مزید لوگوں کو شامل تفتیش کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ بیٹی کے قتل کے بعد قندیل بلوچ کی والدہ کی درخواست پر مفتی عبدالقوی کو شامل تفتیش کیا گیا، عدالت نے مسلسل غیر حاضری پر ملزم کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کررکھے تھے جس کے بعد انہیں 24 اکتوبر کو گرفتار کر کے جج کے سامنے پیش کیا گیا اور عدالت نے انہیں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔دورانِ ریمانڈ مفتی القوی کے دل میں تکلیف ہوئی جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں اُن کی شریانیں بند ہونے کا انکشاف ہوا جس کی روشنی میں ڈاکٹرز نے انہیں فوری طور پر انجیو پلاسٹی کروانے کا مشورہ دیا۔واضح رہے کہ معروف ماڈل اپنے والدین سے ملنے گھر آئیں تو رات کو سوتے ہوئے اُن کے بھائی وسیم نے گلا دبا کر اداکارہ کو ہلاک کیا اور جائے واردات سے فرار ہو گیا تھا، بعد ازاں پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…