منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی اور خلیجی ممالک کا بائیکاٹ،قطرڈوب گیا،انتہائی تشویشناک تفصیلات منظر عام پر

datetime 19  اکتوبر‬‮  2017 |

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) تین پڑوسی عرب ملکوں اور مصر کے ساتھ جاری سفارتی اور اقتصادی بحران کے باعث خلیجی ریاست قطر کو بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ معاشی خسارہ پورا کرنے کے لیے قطری حکومت بیرون ملک کی گئی سرمایہ کاری ختم کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق قطر نے بیرون ملک کی گئی سرمایہ کاری میں سے 20 ارب ڈالر کی رقم ان منصوبوں سے نکال لی ہے۔

یہ رقم قطری فنڈ کی ملکیت ہے جسے بیرون ملک سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں پر لگایا گیا تھا۔برطانوی جریدہ ’فائننشل ٹائمز‘ کے مطابق قطری انویسٹمنٹ سسٹم نے دوحہ کے عرب بائیکاٹ کے نتیجے میں ہونے والے خسارے کو پورا کرنے کے لئے بیس ارب ڈالر کی رقم واپس بنکوں میں منتقل کردی ہے۔اخبار نے قطری وزیر خزانہ علی شریف العمادی کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ دوحہ بیرون ملک سرمایہ کاری فنڈ کی رقم سے بنکوں کو درپیش قلت پوری کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب سے قطر کے اقتصادی اور سفارتی بائیکاٹ کے بعد دوحہ بیرون ملک سے اپنی 30 ارب ڈالر کی رقم واپس ملک میں لا چکا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر بیرون ملک سے رقوم کی وطن واپسی فطری ہے۔علی شریف العمادی کا کہنا ہے کہ ہم نے بیرون ملک سرمایہ کاری کے منصوبوں پر لگائی رقم ملک میں واپس لانا شروع کی ہے۔ یہ رقم قطری انویسٹمنٹ فنڈ، وزارت خزانہ اور دیگر اداروں کی جانب سے بیرون ملک سرمایہ کاری کے منصوبوں پر صرف کی گئی تھی۔ موجودہ حالات میں اس رقم کو واپس لانا فطری امر ہے۔ ایسا احتیاطی اور حفاظتی نقطہ نظر سے کیا جا رہا ہے۔

’موڈیز‘ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قطر نے پڑوسی ملکوں سے بحران پیدا ہونے کے بعد 38.5 ارب ڈالر کی رقم اپنے بنکوں میں منتقل کی ہے۔قطری سرماریہ کاری بورڈ نے حال ہی میں ’کریڈ سویز‘ بنک، دا سوئس بنک، روسی توانائی کمپنی ’روز نفٹ‘ امریکی کمپنی ‘ٹیوانی اینڈ کو‘ اور کئی دوسرے اداروں میں اپنے حصص فروخت کردیے تھے۔قطری وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں بعض عرب ممالک کے ساتھ کشیدگی کا سامنا ہے۔ تاہم ہمارے پاس پیسے کی قلت نہیں۔ ہم اپنی تزویراتی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ جیسے ہی حالات سازگار ہوئے ہم بیرون ملک سرمایہ کاری کریں گے۔فائنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2022ء کو ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے قطر کو ماہانہ 50 کروڑ ڈالر کی رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔خیال رہے کہ قطر کا سرمایہ کاری بورڈ پورے خطے اور دنیا کے بڑے سرمایہ کاری اداروں میں شامل ہے۔ اس بورڈ کے سرمائے کی مالیت 3 کھرب ڈالر بتائی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…