پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

سعودی اور خلیجی ممالک کا بائیکاٹ،قطرڈوب گیا،انتہائی تشویشناک تفصیلات منظر عام پر

datetime 19  اکتوبر‬‮  2017 |

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) تین پڑوسی عرب ملکوں اور مصر کے ساتھ جاری سفارتی اور اقتصادی بحران کے باعث خلیجی ریاست قطر کو بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ معاشی خسارہ پورا کرنے کے لیے قطری حکومت بیرون ملک کی گئی سرمایہ کاری ختم کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق قطر نے بیرون ملک کی گئی سرمایہ کاری میں سے 20 ارب ڈالر کی رقم ان منصوبوں سے نکال لی ہے۔

یہ رقم قطری فنڈ کی ملکیت ہے جسے بیرون ملک سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں پر لگایا گیا تھا۔برطانوی جریدہ ’فائننشل ٹائمز‘ کے مطابق قطری انویسٹمنٹ سسٹم نے دوحہ کے عرب بائیکاٹ کے نتیجے میں ہونے والے خسارے کو پورا کرنے کے لئے بیس ارب ڈالر کی رقم واپس بنکوں میں منتقل کردی ہے۔اخبار نے قطری وزیر خزانہ علی شریف العمادی کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ دوحہ بیرون ملک سرمایہ کاری فنڈ کی رقم سے بنکوں کو درپیش قلت پوری کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب سے قطر کے اقتصادی اور سفارتی بائیکاٹ کے بعد دوحہ بیرون ملک سے اپنی 30 ارب ڈالر کی رقم واپس ملک میں لا چکا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر بیرون ملک سے رقوم کی وطن واپسی فطری ہے۔علی شریف العمادی کا کہنا ہے کہ ہم نے بیرون ملک سرمایہ کاری کے منصوبوں پر لگائی رقم ملک میں واپس لانا شروع کی ہے۔ یہ رقم قطری انویسٹمنٹ فنڈ، وزارت خزانہ اور دیگر اداروں کی جانب سے بیرون ملک سرمایہ کاری کے منصوبوں پر صرف کی گئی تھی۔ موجودہ حالات میں اس رقم کو واپس لانا فطری امر ہے۔ ایسا احتیاطی اور حفاظتی نقطہ نظر سے کیا جا رہا ہے۔

’موڈیز‘ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قطر نے پڑوسی ملکوں سے بحران پیدا ہونے کے بعد 38.5 ارب ڈالر کی رقم اپنے بنکوں میں منتقل کی ہے۔قطری سرماریہ کاری بورڈ نے حال ہی میں ’کریڈ سویز‘ بنک، دا سوئس بنک، روسی توانائی کمپنی ’روز نفٹ‘ امریکی کمپنی ‘ٹیوانی اینڈ کو‘ اور کئی دوسرے اداروں میں اپنے حصص فروخت کردیے تھے۔قطری وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں بعض عرب ممالک کے ساتھ کشیدگی کا سامنا ہے۔ تاہم ہمارے پاس پیسے کی قلت نہیں۔ ہم اپنی تزویراتی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ جیسے ہی حالات سازگار ہوئے ہم بیرون ملک سرمایہ کاری کریں گے۔فائنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2022ء کو ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے قطر کو ماہانہ 50 کروڑ ڈالر کی رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔خیال رہے کہ قطر کا سرمایہ کاری بورڈ پورے خطے اور دنیا کے بڑے سرمایہ کاری اداروں میں شامل ہے۔ اس بورڈ کے سرمائے کی مالیت 3 کھرب ڈالر بتائی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…