ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

بنی گالا،عمران خان کی رہائش گاہ کا گھیراؤ،بات بڑھ گئی

datetime 14  اکتوبر‬‮  2017 |

زیارت (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف شمالی بلوچستان کے سینکڑوں کارکنوں کادھرنا حاجی نورمحمدخان دمڑ کی قیادت میں بنی گالہ میں نویں روز میں داخل ہوگئی دھرنے میں شرکت کے لئے شمالی بلوچستان سے کارکنوں کے مزید قافلوں کے پہنچنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اسی طرح دھرنے کے لئے مالی تعاون کا سلسلہ بھی جاری ہے حاجی عبداللہ خان دمڑکی جانب سے دھرنے کے لئے ایک لاکھ روپے نقددئیے

گئے جبکہ ٹھیکدار محمد نعیم کاکڑ کی جانب سے ایک لاکھ روپے نقداور گزشتہ دن اور رات کاکھانا بھی انہوں نے ترتیب دیا۔ اس موقع پر حاجی نور محمد خان دمڑ نے دھرنے میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں شوکاز نوٹس تو بھیجا گیا ہے او رہم مطمئن ہیں کیونکہ ہم بلوچستان کے حوالے سے جن چار ریجنز کا مطالبہ کررہے ہیں وہ پارٹی کے اپنے آئین میں موجود ہے ہم جو دھرنا دے رہے ہیں یہ کسی اور پارٹی کے گھرکے سامنے نہیں بلکہ اپنی پارٹی کے لیڈر کے سامنے دے رہے ہیں جس پر کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہمارا جدوجہد اس وقت تک جاری رئیگا جب تک صوبہ بلوچستان کو بھی دوسرے صوبوں پنجاب اور خیبر پشتونخواہ کی طرح خود مختار ریجنز میں تقسیم نہیں کرینگے۔ انہوں نے جاری کردہ شوکاز نوٹس کے بعد دوسرے پارٹیوں کی جانب سے خوشیوں پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم زیارت میں پہلے سے بھی ذیادہ سخت مقابلہ کرینگے وہ خوشی میں نہ رہے اور کارکنوں کو تاکید کی کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…