منگل‬‮ ، 12 مئی‬‮‬‮ 2026 

لاس ویگاس حملے کا علم نہیں تھا، ملزم کی گرل فرینڈ کا دعویٰ

datetime 5  اکتوبر‬‮  2017 |

لاس ویگاس (آئی این پی)امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں ایک کانسرٹ پر فائرنگ کرکے 58 افراد کو قتل کرنے والے مسلح شخص کی گرل فرینڈ نے کہا ہے کہ اسے اس حملے کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔امریکی میڈیا کے مطابق ماریلو ڈینلے منگل کی شب فلپائن سے امریکہ واپس پہنچی تھیں جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ‘ایف بی آئی’ کے حکام نے ان سے لاس اینجلس میں پوچھ گچھ کی۔تفتیشی حکام سے ملاقات کے بعد 62 ڈینلی کے

ایک وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی موکلہ کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ان کے دوست اسٹیفن پیڈوک ایسے کسی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔فلپائنی نژاد ماریلو ڈینلے اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے فلپائن میں تھیں جب اتوار کی شب ان کے بوائے فرینڈ 64 سالہ پیڈوک نے لاس ویگاس میں ایک کانسرٹ پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی تھی۔اس حملے میں 500 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ حملے کے بعد پیڈوک نے پولیس کے ان کے کمرے تک پہنچے سے قبل ہی خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی تھی جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 59 ہوگئی تھی۔پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے ودران ہی ماریلو ڈینلی کو حملہ آور کی دوست کی حیثیت سے شناخت کرتے ہوئے امکان ظاہر کیا تھا کہ ان سے حملے سے متعلق اہم معلومات مل سکتی ہیں۔بدھ کو صحافیوں کے سامنے ایک لکھا ہوا بیان پڑھتے ہوئے ڈینلی کے وکیل نے کہا کہ پیڈوک نے ان کی موکلہ سے اس بارے میں بات کی تھی اور نہ ہی انہوں نے ایسی کوئی غیر معمولی بات دیکھی تھی جس سے اندازہ ہوپاتا کہ پیڈوک کیا کرنے والا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس نے کہا تھا کہ بظاہر پیڈوک نے فائرنگ کی یہ واردات اکیلے ہی انجام دی تھی لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس نے یہ حملہ کیوں کیا تھا؟تاہم لاس ویگاس پولیس کے شیرف جوزف لمبارڈو کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ

پیڈوک کے ہوٹل کے کمرے اور پھر گھر سے برآمد ہونے والے اتنے ہتھیار، بارودی مواد اوردیگر اسلحہ پیڈوک نے تنِ تنہا ہی سنبھالا۔بدھ کو صحافیوں کو تحقیقات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے شیرف نے کہا کہ حملے کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور لگتا ایسا ہے کہ حملہ آور کو کسی نہ کسی مرحلے پر کسی دوسرے شخص کی مدد کی ضرورت پڑی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پیڈوک ایک ایسا شخص تھا جو گزشتہ کئی دہائیوں سے

ہتھیار اور ان کی گولیاں جمع کر رہا تھا لیکن اس کے باوجود خاموشی سے زندگی گزار رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملزم کے اس رویے کو سمجھنا خاصا مشکل ہے اور اسی لیے حملے کی وجوہات کے تعین میں پولیس کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



موسمی پرندے


’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…