ہفتہ‬‮ ، 27 جون‬‮ 2026 

لاس ویگاس حملے کا علم نہیں تھا، ملزم کی گرل فرینڈ کا دعویٰ

datetime 5  اکتوبر‬‮  2017 |

لاس ویگاس (آئی این پی)امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں ایک کانسرٹ پر فائرنگ کرکے 58 افراد کو قتل کرنے والے مسلح شخص کی گرل فرینڈ نے کہا ہے کہ اسے اس حملے کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔امریکی میڈیا کے مطابق ماریلو ڈینلے منگل کی شب فلپائن سے امریکہ واپس پہنچی تھیں جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ‘ایف بی آئی’ کے حکام نے ان سے لاس اینجلس میں پوچھ گچھ کی۔تفتیشی حکام سے ملاقات کے بعد 62 ڈینلی کے

ایک وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی موکلہ کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ان کے دوست اسٹیفن پیڈوک ایسے کسی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔فلپائنی نژاد ماریلو ڈینلے اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے فلپائن میں تھیں جب اتوار کی شب ان کے بوائے فرینڈ 64 سالہ پیڈوک نے لاس ویگاس میں ایک کانسرٹ پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی تھی۔اس حملے میں 500 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ حملے کے بعد پیڈوک نے پولیس کے ان کے کمرے تک پہنچے سے قبل ہی خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی تھی جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 59 ہوگئی تھی۔پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے ودران ہی ماریلو ڈینلی کو حملہ آور کی دوست کی حیثیت سے شناخت کرتے ہوئے امکان ظاہر کیا تھا کہ ان سے حملے سے متعلق اہم معلومات مل سکتی ہیں۔بدھ کو صحافیوں کے سامنے ایک لکھا ہوا بیان پڑھتے ہوئے ڈینلی کے وکیل نے کہا کہ پیڈوک نے ان کی موکلہ سے اس بارے میں بات کی تھی اور نہ ہی انہوں نے ایسی کوئی غیر معمولی بات دیکھی تھی جس سے اندازہ ہوپاتا کہ پیڈوک کیا کرنے والا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس نے کہا تھا کہ بظاہر پیڈوک نے فائرنگ کی یہ واردات اکیلے ہی انجام دی تھی لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس نے یہ حملہ کیوں کیا تھا؟تاہم لاس ویگاس پولیس کے شیرف جوزف لمبارڈو کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ

پیڈوک کے ہوٹل کے کمرے اور پھر گھر سے برآمد ہونے والے اتنے ہتھیار، بارودی مواد اوردیگر اسلحہ پیڈوک نے تنِ تنہا ہی سنبھالا۔بدھ کو صحافیوں کو تحقیقات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے شیرف نے کہا کہ حملے کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور لگتا ایسا ہے کہ حملہ آور کو کسی نہ کسی مرحلے پر کسی دوسرے شخص کی مدد کی ضرورت پڑی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پیڈوک ایک ایسا شخص تھا جو گزشتہ کئی دہائیوں سے

ہتھیار اور ان کی گولیاں جمع کر رہا تھا لیکن اس کے باوجود خاموشی سے زندگی گزار رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملزم کے اس رویے کو سمجھنا خاصا مشکل ہے اور اسی لیے حملے کی وجوہات کے تعین میں پولیس کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…