جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

سی ڈی اے کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ ، امریکی فرم نے پاکستانی سفیر کو خط لکھ دیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مرکز گرینڈ حیات ٹاور میں اربوں روپے سرمایہ کاری کرنے والے 42امریکن پاکستانیوں نے اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ اور نقصانات کے ازالے کے لئے امریکی لاء فرم کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ امریکی لاء فرم نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری کو ایک خط تحریر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ساری زندگی کی جمع پونجی گرینڈ حیات ٹاور میں لگانے والے 42امریکن پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو تحفظ دینے کے لئے حکومت پاکستان اقدامات کرے۔

نیو یارک کی مشہور لاء فرم ایڈم ڈریپکن اسکوائر نے 19ستمبر 2017کو ایک خط پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری کے نام لکھا ہے خط میں گرینڈ حیات ٹاور میں سرمایہ کاری کرنیو الے 42پاکستانیوں کی معاشی حالت زار پر روشنی ڈالی ہے اور واضح کیا ہے کہ حکومتی ادارہ (سی ڈی اے) نے 42امریکن پاکستانیوں سے فراڈ کیا ہے ۔ امریکہ میں مقیم درجنوں پاکستانیوں نے سی ڈی اے کی ہدایت اور مشورہ پر گرینڈ حیات ٹاور(OCA)میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ سرمایہ کاری کے لئے سی ڈی اے نے امریکہ میں پاکستانیوں کو پر کشش ترغیبات دیں تھیں تاہم جب یہ منصوبہ مکمل ہو گیا اور منصوبہ کی مالیت میں کئی گناہ اضافہ ہوا تو سی ڈی اے نے 42امریکی پاکستانیوں کو پیغام دیا کہ ان کی سرمایہ کاری کو سیل کر دیا گیا ہے۔ اور گرینڈ حیات ٹاور کی قرقی کر لی گئی ہے۔امریکی فرم نے اس خط میں پاکستانی سفیر کو بتایا کہ سی ڈی اے نے امریکہ میں مقیم سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو یہ بھی واضح کر دیا کہ ان کے نقصانات کا کوئی ازالہ بھی نہیں کیا جائے گا۔ سی ڈی اے کے اس اقدام پر امریکہ میں پاکستان کے تشخص بھی بری طرح مجروح ہوا ہے جس سے ملک میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے امکانات شدید متاثر ہوں گے اور ملک میں مزید سرمایہ کاری کے امکانات ختم کرانے میں سی ڈی اے کا بڑا کردار ہو گا۔ امریکی فرم نے باور کرایا ہے کہ 42امریکن پاکستانیوں کے پاس سی ڈی اے کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمات دائر کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہا

تاکہ عدالت کے ذریعے سرمایہ کاری کے تحت ہونے والے نقصانات کا ازالہ حاصل کیا جا سکے اور گرینڈ حیات میں کئی اربوں روپے کی سرمایہ کاری پر نقصانات کی ریکوری کو یقینی بنایاجا سکے۔ امریکی فرم نے پاکستانی سفیر پر یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکہ میں یہ مقیم 42پاکستانی اپنے حقوق کے تحفظ اور سرمایہ کاری کرنے کے نقصانات کی ریکوری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس مقصد کے لئے امریکی عدالت کے دروازے بھی کھٹکھٹائیں گے کیونکہ پاکستان کے منہ زور ادارہ سی ڈی اے نے نہ صرف مالی نقصان کیا ہے بلکہ ان 42امریکی پاکستانیوں کی امید کا قاتل بھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…