جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

امریکا اورنیپال کے درمیان 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری، سمجھوتے پر دستخط

datetime 18  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر غربت دور کرنے سے دنیا زیادہ مستحکم اور محفوظ ہوگی، جس سے اندرونی اور بیرونی طور پر معاشی افزائش کے زیادہ مواقع میسر آئیں گے،سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے، امریکہ اور نیپال نے 50 کروڑ ڈالر کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں، جس میں پانچ سالہ گرانٹ بھی شامل ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اس سمجھوتے پر ملینئم چیلنج کارپوریشن (ایم سی سی) میں شمولیت اختیار کرنے والے امریکی معاون وزیر خارجہ جان سلیون اور ایم سی سی کے قائم مقام انتظامی سربراہ جوناتھن نیش اور نیپال کے وزیر خزانہ گیاندرہ بہادر کرکی نے دو روز قبل دستخط کیے۔ایک بیان میں، محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے کہا کہ نیپالی حکومت سرمایہ کاری کے اس معاہدے کی حمایت میں مزید 13 کروڑ ڈالر دے گی۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سیکیا جانے والا یہ پہلا معاہدہ اور جنوبی ایشیا کے لیے پہلا سمجھوتا ہے؛ جس میں ساجھے دار ملک کو بڑی مالیت ادا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ایم سی سی کے نیپال معاہدے کا مقصد نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور غربت دور کرنے کیلیے معاشی افزائش بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے۔ایم سی سی کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں خطے میں توانائی کی ترسیل بڑھے گی، جس کے نتیجے میں نیپال کا توانائی کا شعبہ مضبوط ہوگا اور بھارت کے ساتھ بجلی کی تجارت میں سہولتیں پیدا کرنے پر زور دیا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ معاشی طور پر فروغ پاتا ہوا نیپال نہ صرف ملک کے عوام کے بہترین مفاد میں ہوگا، بلکہ خطے اور امریکہ کے مفاد میں ہے۔ ساتھ ہی، استحکام اور ادارے

مضبوط ہوں گے؛ ایم سی سی تنازعات کے حل اور قدرتی آفات جیسے عالمی خدشات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے گا۔ملینئیم چیلنج کارپوریشن امریکہ کا ایک متنوع سرکاری ادارہ ہے، جس کی تشکیل کا مقصد عالمی سطح پر غریب ملکوں میں غربت کا خاتمہ لانا ہے، اور ساتھ ہی بہترین عمل داری کے عزم کے مظاہرے کو فروغ دینا ہے۔محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ عالمی سطح پر

غربت دور کرنے سے دنیا زیادہ مستحکم اور محفوظ ہوگی، جس سے اندرونی اور بیرونی طور پر معاشی افزائش کے زیادہ مواقع میسر آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…