جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جولائی2013 سے مارچ 2017 تک موجودہ دورحکومت میں کتنے ارب ڈالر قرضہ لیاگیا؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 26  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)وزارت خزانہ نے گزشتہ روز غیر ملکی قرضوں میں 18ارب ڈالر اضافے سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور حقیقت کے منافی قرار دیدیا ہے۔وزارت خزانہ کے ترجمان نے اس میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے کہ وزارت خزانہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو غیر ملکی قرضوں میں حکومت کی جانب سے 18ارب ڈالر اضافے کے معاملہ پر بریفنگ دینے سے کترا اور مصروفیت کا بہانہ بنا رہی ہے

۔ترجمان نے واضح کیا کہ قائمہ کمیٹی ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے۔خزانہ،ریونیو،اقتصادی امور،شماریات اور نجکاری سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا شمار سب سے زیادہ فعال کمیٹیوں میں ہوتا ہے۔ اور قومی اقتصادی امور سے متعلق رہنمائی فراہم کرنے میں متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔تاہم ترجامن نے واضح کیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس انتہائی مختصر نوٹس پر طلب کیا گیا جس کی وجہ سے وزارت خزانہ اس معاملہ بریفنگ نہیں دی سکی۔ترجمان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک انگریزی اخبار نے معاملہ کو بڑھا چڑھا کر ایشو بنانے اور وزارت خزانہ اور کمیٹی کے درمیان قائم خوشگوار ورکنگ تعلقات کو خراب کرنیکی کوشش کی ہے۔ترجمان کے مطابق قرضہ سے متعلق قائمہ کمیٹی کو ایک بریفنگ رواں سال 19 جولائی کو دی گئی انہوں نے کہا کہ قرضوں کے حوالے سے غلط اعداد و شمار پیش کر کے عوام کو گمراہ کرنیکی کوشش کی گئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں جولائی2013 سے مارچ 2017 تک غیر ملکی قرضہ میں 10.3ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور جون 2017 تک یہ 14ارب ڈالر متوقع ہے۔ترجمان نے کہا کہ غیر ملکی قرضہ لینا ترقی پذیر ممالک کا معمول کا عمل ہے اور پاکستان اس سے مبرا نہیں ترقی پذیر معیشتیں سرمایہ کی ضروریات پوری کرنے ،اقتصادی ترقی تیز اور روز گار کے موقع پیداکرنے کے علاوہ دیگر اہم مقاصدکی غرض سے غیر ملکی قرضہ حاصل کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…