منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

چوہدری نثار کی پریس کانفرنس،خبر کس نے لیک کی؟اعلان کردیا‎

datetime 20  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) سینئر لیگی رہنماء اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے شہر اقتدار میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 24 دن بعد آج پھر میڈیا سے بات کر رہا ہوں، میں نے یا میرے کسی قریبی آدمی نے کوئی خبر لیک نہیں کی، میرے حوالے سے کچھ خبریں گردش کر رہی تھیں جن میں سے کچھ غلط ہیں لہٰذا 24 دن بعد کچھ نہ کچھ وضاحت دینا تھی، سوا 4 سال تک بطور وزیر داخلہ کام کیا، اپنی کارکردگی پر کبھی اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بنا،

کچھ لوگ ہمیشہ مجھ پر تنقید کے تیر چلاتے رہے حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ وزارت داخلہ کی قانونی یا آئینی اتھارٹی کیا ہے، وزارت داخلہ ایک پالیسی بنانے والا ادارہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف سانحہ لعل شہباز قلندر کے موقع پر تنقید کا جواب دیا، داخلی سکیورٹی کا کام نہ ختم ہونے والا ہے، 2014ء میں روزانہ 5،6 دھماکے ہوتے تھے، کوشش کی تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلوں، پاکستان آج ان ممالک میں سے ہے جہاں دہشتگردی کا گراف نیچے آیا، آج پاکستان کی سرزمین پر دہشتگردی کا نیٹ ورک نہیں ہے، اب دہشتگرد صرف کمزور ٹارگٹس کو نشانہ بناتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ میں نے پاک افغان بارڈر مینجمنٹ پر کام کیا، بارڈر پر باڑ لگنی شروع ہو چکی ہے، کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ملٹری آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا، ملٹری آپریشن پر تحفظات کے باوجود سب سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا۔ چودھری نثار نے مزید کہا کہ ان کے دور میں ہزاروں جعلی شناختی کارڈ بلاک کئے گئے، 32 ہزار پاسپورٹس منسوخ کئے گئے، 10 ہزار سے زائد نام ای سی ایل سے نکالے گئے، 2 لاکھ سے زائد اسلحہ لائسنس منسوخ کئے گئے، طور خم بارڈر پر بغیر دستاویزات روز 30 ہزار لوگ آتے جاتے تھے، حیران ہوا شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اسلحہ لائسنس پر پابندی لگائیں گے، ہم تو پہلے ہی پابندی لگا چکے تھے، میں نے اسلحہ لائسنس کی تصدیق کرائی،

2 لاکھ سے زائد ممنوعہ بور کے لائسنس منسوخ کئے، سرحدوں پر فینسنگ کیلئے اربوں روپے لگائے جا رہے ہیں۔چودھری نثار نے مزید کہا کہ پہلی مرتبہ این جی اوز کو دائرے میں لائے، صرف 70 این جی اوز کو قانون کے مطابق کام کی اجازت دی، اسلام آباد میں غیرملکیوں کا ریکارڈ وزارت کے پاس ہے، غیرملکیوں سے چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر گھر خالی کرائے، مجھ سے پہلے ڈرگ سمگلنگ میں ملوث افراد کو چھوڑ دیا جاتا تھا، اب کسی کو ایئرپورٹ پر ویزہ نہیں مل سکتا۔

سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ آزاد میڈیا سے شکوہ نہیں لیکن سیکشن آف میڈیا سے شکوہ ہے، بہت سارے کام ہونا ابھی باقی ہیں، صدق دل سے داخلی سکیورٹی میں بہتری کیلئے کام کیا، آج کراچی ایک آدمی کے پاگل پن کا غلام نہیں ہے، سٹیک ہولڈرز کے اتفاق سے کراچی میں امن آیا، سول ملٹری تعلقات میں اب مسئلہ نہیں ہے، ہمیشہ تمام ایجنسیوں نے بھرپور تعاون کیا، مجھے کبھی کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا، کراچی آپریشن جب غلط روش پر گیا تو سندھ حکومت نے اختلاف کیا، مجموعی طور پر سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے تعاون کیا، آج بھی بہت زیادہ پریشرز ہیں، ای سی ایل کے حوالے سے آج بھی دباؤ ہے، دوستی اور تعلق کا دباؤ ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…