جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

ہندو انتہا پسندوں کی پاکستان کےساتھ قائداعظم ؒ سے بھی دشمنی آخری حدو ں کو چھونےلگی

datetime 16  اگست‬‮  2017 |

ممبئی (این این آئی)ممبئی میں جناح کی کوٹھی کا معاملہ 70سال گزرنے کے بعد بھی حل نہ ہوسکاجبکہ عمارت ویران پر پڑی ہے اوراس پر بھارت کا قبضہ ہے، کچھ انتہا پسند ہندواس کو گرانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک جھگڑا اس کوٹھی پر

بھی ہے، جو گذشتہ 70 سالوں سے چلا آ رہا ہے۔پاکستان، جناح کی اس کوٹھی پر اپنا حق جتاتا ہے اور پاکستان کے عام شہری کی نظر میں جناح کی یہ کوٹھی ان کی ایک یادگار ہے۔اسی رہائش گاہ میں قیام کے دوران جناح نے پاکستان کی بنیاد رکھی تھی، اس کے لیے لڑائی لڑی تھی اور اسی لیے پاکستان اس پر دعوٰی پیش کرتا ہے۔بھارت نے ممبئی میں جناح کے بنگلے کو ‘اینمی پراپرٹی یعنی دشمن کی جائیداد قرار کر رکھا ہے۔ فی الحال یہ عمارت ویران پڑی ہے اور حکومت کا اس پر قبضہ ہے۔ایک مقامی سیاستدان جو ریئل اسٹیٹ کا دھندہ بھی کرتے ہیں، وہ جناح کی کوٹھی کو گرانے کی مہم چھیڑے ہوئے ہیں۔جناح کو ممبئی شہر سے بہت محبت تھی۔ انگلینڈ سے لوٹ کر وہ یہیں بس گئے تھے۔ اپنی رہائش کے لیے انھوں نے یہ شاندار عمارت بنوائی تھی۔ جناح نے یہ کوٹھی، اس دور کے یورپی بنگلوں کی طرز پر بنوائی تھی۔ اس بنگلے کا نام ساؤتھ کورٹ ہے۔یہ بنگلہ جنوبی ممبئی کے مالابار ہلز علاقے میں ہے۔ سمندر کے رخ پر بنی اس عمارت کو بنانے میں جناح نے 1930 کی دہائی میں تقریبا دو لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔اس کا ڈیزائن مشہور آرکیٹیکٹ یلاڈ بیٹلے نے تیار کیا تھا۔ اس میں اطالوی سنگ مرمر لگے ہیں۔ ساتھ ہی لکڑی کا کام بھی بہت عمدہ قسم کا ہے۔اس کوٹھی کو جناح نے اپنے خواب کی عمارت کے طور پر بنوایا تھا۔ اس کی تعمیر کے لیے خاص طور سے اٹلی سے کاریگر بلائے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…