جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سی ڈی اے نے سینکڑوں تاجروں کو غیر قانونی نوٹس بھجوا دئیے، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

datetime 4  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے سی ڈی اے نے موجودہ سیاسی بے یقینی کی کیفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام آبا دکی تاجر برادری کو لوٹنے کا منصوبہ بنا کر سینکڑوں تاجروں کو غیر قانونی نوٹس جاری کر دئیے ہیں جس سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کمرشل بلڈنگوں کے سینکڑوں مالکان کونوٹس بھیجے گئے ہیں کہ وہ اپنے پلازوں اور شاپنگ سینٹروں میں برامدہ بنوائیں ورنہ سی ڈی اے کا عملہ ان عمارتوں کو مسمار کر دے گا

اور اس کے اخراجات بھی جائیداد کے مالک سے وصول کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ سی ڈی اے کے فیصلے کی زد میں سینکڑوں عمارتیں آ رہی ہیں جبکہ اس سے شہر میں کارپوریٹ سیکٹر اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تمام دفاتر متاثر ہونگے جس سے مقامی و غیر ملکی سرمایہ کار ہراساں ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے قوانین میں کمرشل عمارتوں میں برامدہ بنانے یا نہ بنانے کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اسلام آبا دمیں کئی دہائیوں سے کمرشل عمارتیں بغیر برامدے بن رہی ہیں اور اگر یہ غیر قانونی ہیں تو انکی تعمیر کیوں ہونے دی گئی، نقشے کیوں منظور کئے گئے اور سی ڈی اے نے ہزاروں بلڈنگ مالکان کے منصوبے کی تکمیل کی سند( کمپلیشن سرٹیفیکیٹ) کیوں جاری کئے۔انھوں نے کہا کہ سی ڈی اے ایک طرف تو غیر قانونی حربوں سے کاروباری برادری کو لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف شہر بھر میں تجاوزات کی بھرمار ہے جن سے بھتہ لیا جاتا ہے۔ کھوکا ہوٹلوں نے سینکڑوں فٹ زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے، مارکیٹوں میں بعض دکانداروں نے سی ڈی اے کی ملی بھگت سے گزر گاہیں بند کر کے دکانیں بنا ڈالی ہیں جن سے لاکھوں روپے کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد چیمبر کے رہنماؤں نے بھی آبپارہ میں قبضے کئے ہوئے ہیں، مارکیٹوں میں سیڑھیوں کو بھی دکانوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ کوئی ایسا سیکٹر نہیں جہاں سرکاری زمین پر قبضہ نہ ہوا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…