جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دعائیں رنگ لائیں ، بڑا مسئلہ حل صبح صبح پڑھیں خوشی کی خبر

datetime 27  جولائی  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)وزارت پٹرولیم اور آئل ٹینکرز کے مابین ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے، فریقین کے درمیان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے مطالبات سمیت وزارت اور اوگرا کی جانب سے پیش کئے گئے قوانین کے حوالے سے مذاکرات ہوئے، دونوں جانب سے معاہدات پر دستخط کر دیئے گئے،معاہدے کے تحت آئل ٹینکرز کیلئے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا گیا،آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے

مطالبات بھی تسلیم کرلئے گئے ہیں جبکہ ترجمان اوگرا کے مطابق حفاظتی اقدامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا،15روز میں آئل ٹینکرز والوں کے ساتھ بیٹھ مسائل کا جائزہ لیا جائے گا، آئل ٹینکرز کے لائسنس کے حوالے سے شرط2009سے نافذ ہے،ہم نے اپنے قوانین ختم نہیں کئے، قوانین ختم کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے میں معاملات طے کرنے کے بعد قوانین کا جائزہ لیا جائے گا۔ بدھ کو آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں اورترجمان اوگرا نے اپنی مختلف پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے بعد آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن اپنی جاری ہڑتال کو ختم کرتی ہے،آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک بھر میں پٹرول کی فراہمی شروع کردی جائے گی، پٹرول نہ ملنے سے جو مشکلات پیش آئیں اس کی ذمہ دار حکومت ہے، ہمارے مطالبات مان لئے گئے ہیں،گزارشات کے منظور ہونے پر حکومت کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے ختم کرانے میں سیکرٹری پٹرولیم و قدرتی وسائل کا اہم کردار ہے، حکومت سے مذاکرات کامیاب رہے،جلد ہی سپلائی معمول پر آ جائے گی،حکومت کے قواعد پر عملدرآمد کرنے سے انکار نہیں کیا، اس حوالے سے ترجمان اوگرا عمران غزنوی نے کہا کہ 15دن میں آئل ٹینکرز والوں کے ساتھ مل کر معاملات حل کریں گے، سیکرٹری پٹرولیم کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، کمیٹی میں آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن، اوگرا اور دیگر متعلقہ حکام شامل ہوں گے، کمیٹی فریقین کے مسائل حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشنز کے لائسنس کی شرط2009 سے نافذ ہے، ہم اپنے قوانین پر عملدرآمد کروائیں گے،کون سے قوانین ختم کرنے ہیں اور کون سے قوانین کو باقی رکھنا ہے ایک ہفتے میں طے کرلیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…