جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

’’دعااور پیشگوئی‘‘

datetime 23  جولائی  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مغل بادشاہ شاہ جہاں دکن پر قبضے کیلئے فوج روانہ کر چکا تھا ، فتح کیلئے بے چین محل کے کمرے میں بے چین ٹہلتے ہوئے اسے اچانک کچھ سوجھا، فوراََ سواری تیار کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ، سواری تیار ہو ئی تو سرپٹ دوڑاتے ہوئے اپنے روحانی استاد میاں میرصاحب کے حضور جا پہنچا،

ہاتھ باندھے مؤدب کھڑا ہو کر دکن کی فتح کیلئے دعا کی درخواست کر دی۔ میاں میر نے چند لمحے شاہ جہاں کے چہرے کا جائزہ لیا پھر ایک سکہ اس کے ہاتھ پر دھر دیااوربادشاہ سمیت وہاں موجود لوگوں سے کچھ ایسے مخاطب ہوئے ’’یہ دنیا کے تمام غربا سے غریب شخص ہے، اتنی بادشاہی کے باوجود وہ دکن پر چڑھائی چاہتا ہے، اس کی بھوک، اس آگ کی طرح ہے جو لکڑیاں ڈالنے سے اور تیز ہوتی ہے۔ اس بھوک نے اسے ضرورت مند اور بھکاری بنا دیا ہے۔‘‘کہنے والے کہتے ہیں کہ دکن تو فتح ہو گیا مگر میاں میر کے اس مختصر خطاب میں شاہ جہاں کے انجام کی بھی پیشگوئی پوشیدہ تھی ۔ جس غربت کا تذکرہ میاں میر نے کیا تھا وہ کچھ اس طرح پوری ہوئی کہ شاہ جہاں اپنی بیٹی کے ہمراہ دسترخوان پر کھانا کھانے کیلئے بیٹھا، خادموں نے ڈھکے ہوئے خوان منہ کے آگے رکھ دئیے ، جیسے ہی شاہ جہاں نے کھانا تناول کرنے کیلئے خوان کا ڈھکن اٹھایا تواس کی چیخ نکل گئی ، اس کا سامنے اس کے دوبیٹوں کے کٹے سر پڑے تھے جنہیں اقتدار کے حصول کی جنگ میں ان کے اپنے بھائی عالمگیر نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

عالمگیر نے شاہ جہاں کو قید تنہائی میں ڈال دیا جہاں انتہائی کسمپرسی میں اس کی موت واقع ہوئی۔مغل شہزادہ دارا شکوہ کی کتاب سکینۃ الاولیا میں میاں میر سے متعلق ایک اورنہایت دلچسپ واقعہ درج ہے ۔ وہ لکھتا ہے کہ مغل بادشاہ جہانگیر نے میاں صاحب کو دربار میں طلب کیا جس پر میاں صاحب نے دربار میں آنے سے انکار کر دیا ، جہانگیر نے دوسری بار نہایت ادب سے درخواست بھیجی کہ آپ کی رہنمائی درکار ہے ، غریب خانے کو عزت بخشئیے۔دوسری بار کا پیغام سن کر میاں میر مغل بادشاہ کے دربار میں جا پہنچے ،

تخلیہ میسر آنے پر حضرت میاں میرنے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا، آپ کی گفتگوسے متاثر ہو کر مغل بادشاہ جہانگیرنے کہا کہ ’’حضرت آپ کی گفتگو نے دل پر کچھ ایسا اثر ڈال دیا ہے کہ میں ملک اور دنیا چھوڑ کر فقیر بننا چاہتا ہوں میرے لئے اب پتھر اور ہیرے جواہرات برابر ہو گئے ہیں ، مجھے دنیا کی کچھ طلب نہیں رہی ۔‘‘مغل بادشاہ کی بات سن کر میاں میر نے جواب میں فرمایا کہ ’’اگر ایسا ہے تو آپ صوفی ہیں۔

” جہانگیر نے کہا کہ، “مجھے اپنا خادم بنا لیں اور خدا کی راہ دکھائیں۔” جس پر میاں میر نے جواب دیا کہ ’’تو مخلوقِ خدا کے لیے اچھا حکمران ہے، اللہ پاک نے تجھے اس عظیم کام پر مامور کیا ہے، کوئی اور شخص جو خلق خدا کا اتنا خیر خواہ، حلیم اور سخی ہو اسے بادشاہ بنا دو، ہم آپ کو فقیر بنا لیں گے‘‘۔

موضوعات:



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…