ہفتہ‬‮ ، 03 جنوری‬‮ 2026 

گائے اور دراز گوش

datetime 25  مئی‬‮  2017 |

حضور نبی کریمؐ، صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف فرما تھے، حضرت علیؓ بھی بیٹھے تھے کہ دو فریق بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے، ایک کہنے لگا: یا رسول اللہؐ! میرا ایک دراز گوش ہے اور اس کی گائے ہے، اس کی گائے نے میرے دراز گوش کو مار دیا ہے۔ اس مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے کہا کہ جانوروں پر کوئی ضمان نہیں ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: اے علیؓ! ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ حضرت علیؓ نے ان

سے پوچھا کہ وہ دونوں جانور باندھے ہوئے تھے، یا دونوں کھلے ہوئے تھے یا ایک باندھا ہوا اور دوسرا کھلا ہوا تھا، کیا صورت تھی؟ انہوں نے کہا کہ دراز گوش بندھا ہوا تھا اور گائے کھلی ہوئی تھی اور اس کا مالک اس کے ساتھ تھا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ گائے کے مالک پر اس دراز گوش کو مار دینے کا ضمان لازم ہے یعنی وہ اس کا معاوضہ دے۔ حضورؐ نے حضرت علیؓ کے اس فیصلہ کو پسند بھی فرمایا اور برقرار بھی رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…