حضرت علیؓ مدینہ کے بازار میں مارے مارے پھر رہے تھے، آپؓ اصل میں اپنی تلوار بیچنا چاہتے تھے۔ آپؓ نے نحیف آواز میں فرمایا: کون مجھ سے یہ تلوار خریدے گا پس اس ذات کی قسم ہے جس نے دانے کو پھاڑا، میں نے اس کے ذریعہ بہت دفعہ رسول کریمؐ کا دفاع کرتے ہوئے مصائب کو دور کیاہے۔ اگر میرے پاس ایک تہبند کی قیمت بھی ہوتی تو میں یہ تلوار نہ بیچتا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
2025 میں پاکستانی انٹرنیٹ صارفین نے گوگل پر سب سے زیادہ کیا تلاش کیا؟ گوگل نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
-
ایزی پیسہ کا بڑا سرپرائز،صارفین کے لیے ناقابل یقین سہولت
-
بابا وانگا کی 2026 کیلئے کی جانیوالی بڑی پیشگوئیاں
-
امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ
-
نجی ہاؤسنگ سکیم کا بڑا اسکینڈل،دستاویزات جعلی،عوام پریشان
-
2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں با رے اہم خبر
-
پنجاب حکومت نے 9سرکاری محکمے ختم کردیئے،نوٹیفکیشن جاری
-
ہونڈا نے سوک کے نئے ماڈلز کی تعارفی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
راولپنڈی، غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون کو قطر سے پاکستان لا کر قتل کر دیا گیا
-
سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے حکومت کا بڑا فیصلہ
-
ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر
-
سال کے پہلے دن سونا سستا، قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
-
وفاقی آئینی عدالت کا سپریم کورٹ کو پہلا حکم جاری
-
سابق سربراہ پاک فضائیہ ائیر مارشل نور خان کی بیٹی ٹریفک حادثے میں جاں بحق















































