پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

یا رسول اللہﷺ کیا مجھے بھی آپﷺ کی رفاقت کاشرف حاصل ہو گا؟

datetime 24  مئی‬‮  2017 |

جس روز گرمی کی شدت چہروں کو جھلسا رہی تھی مکہ کی سرزمین گرمی کی آگ سے تپ رہی تھی اور عین دوپہر کے وقت لوگوں کی کھالیں جل رہی تھیں کہ حضورﷺ جلدی سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے، آپﷺ صبح یا شام کے وقت ہی تشریف لایا کرتے تھے لیکن اس روز آنحضرتﷺ خلاف معمول اس کڑی دوپہر کے وقت تشریف لائے جس روز آپﷺ کو مکہ سے ہجرت کرنے کی اجازت ملی۔

جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنے حبیب اور اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک (حضور علیہ السلام) پر نظر پڑی تو یکدم اٹھ کھڑے ہوئے اور دل میں کہنے لگے۔ رسول اللہﷺ اس وقت ضرور کسی اہم واقعہ کی بناء پر تشریف لائے ہیں۔جب آنحضورﷺ تشریف لے آئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپؐ کے لئے اپنی چارپائی سے اٹھے اور آنحضرتﷺ تشریف فرما ہوئے۔ اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس صرف حضرت عائشہؓ اور حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بیٹھی تھیں۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا! ان کو ذرا یہاں سے ہٹا دو۔ ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ دونوں میری بیٹیاں ہی تو ہیں، میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! پھر حضورﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کی اجازت دے دی ہے (یہ سن کر) صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دو زانو ہو کر بیٹھے، آپ کے دونوں رخساروں پر آنسو بہہ رہے تھے، عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے بھی آپ کی رفاقت کاشرف حاصل ہو گا؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے ابوبکر! ہاں، تجھے میری رفاقت حاصل ہو گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ خدا گواہ ہے کہ مجھے اس سے پہے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ کوئی شخص خوشی کے مارے بھی روتا ہے، میں نے اس دن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (خوشی کے مارے) روتے دیکھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سارا مال (جو پانچ ہزار درہم تھے) لیا اور حضور اکرمﷺ کے ہمراہ ہجرت کے لئے چل پڑے۔

ابوقحافہ آئے، وہ بہت بوڑھے تھے، ان کی بینائی بھی جاتی رہی تھی، بلند آواز میں کہنے لگے، خدا کی قسم! میرا خیال یہ ہے کہ اس نے اپنے مال کی وجہ سے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان سے کہا ابا جان! ایسی بات نہیں ہے۔

انہوں نے ہمارے لئے خیرکثیر چھوڑی ہے۔ چنانچہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گھر کے اس طاقچہ میں جہاں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا مال رکھتے تھے کچھ پتھر لے کر رکھ دیئے اور اس پر کپڑا ڈال دیا پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا ابا جان! دیکھو! اس مال پر اپنا ہاتھ رکھیے جب انہوں نے اپنا ہاتھ رکھا تو انہیں وہاں کچھ رکھا ہوا محسوس ہواپھر خوش ہو کر کہنے لگے کوئی حرج نہیں!

جب وہ تمہارے لئے اتنا مال چھوڑ گیا ہے اس نے اچھا کام کیا، اس سے تمہارا کام بن جائے گا۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ خدا کی قسم! حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمارے لئے کوئی چیز نہیں چھوڑی، میں نے صرف یہ چاہا کہ اس طریقہ سے ان بزرگوں کو خاموش کرا دوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…