اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

فائر فائٹر

datetime 10  مئی‬‮  2017 |

یہ ایک چھوٹے سے بچے کی سچی کہانی ہے۔ اس کی ماں صرف چھبیس سال کی تھی اور اس کے نو عمر لڑکے کو اسی دن ہسپتال سے’ ٹرمینل لیوکیمیا ‘تشخیص ہوا تھا۔ وہ عورت بہت اداس ہوئی۔ لڑکا ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ اس کی ماں اس کے سر ہانے بیٹھی تھی اور بہت پریشان تھی۔ وہ کسی طرح بھی اپنی بیٹے کو موت کے منہ سے نہیں نکال سکتی تھی۔ اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ تم بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے تھے؟

اس نے فوراً جواب دیا کہ میں نے تو( فائر فائیٹر) بننا تھا۔ یہ انگریزی میں آگ بجھانے والے عملے کے لوگوں کو کہتے ہیں۔ اس نے ماں سے بولا کہ میں بہت اچھا اور دلیر فائر فائٹر بنتا۔ اس کی ماں نے اس کی یہ بات ذہن نشین کر لی اور اگلے دن جب وہ سو گیا تو وہ ہسپتال سے نکل کر ’ایریزونا‘ کے لوکل فائر ڈپارٹمنٹ میں چلی گئی۔ اس نے ادھر کے ہیڈ سے بات کی ۔ اس کو بتایا کہ اس کا بیٹا ابھی کافی کم عمر تھا اور اس کو کینسر تشخیص ہوا ہے اور وہ زیادہ عرصے زندہ نہیں رہ پائے گا۔ اس نے اپنے بیٹے کی خواہش بتائی۔ اس نے درخواست کی کہ صرف تھوڑی سی دیر کے لیے اس کے بیٹے کو ہسپتال سے فائر بریگیڈ کی سیر کروا دے۔ وہ بولا کہ میڈم ہم آپ کے بیٹے کے لیے اس سے بہتر کام کر سکتے ہیں۔ کوئی اور خدمت بتائیں۔ میں آپ کے بیٹے کو بدھ کی شام سات بچے ہسپتال سے اپنے فائر ٹرک میں پک کروں گا اور پورا دن وہ ہمارے ساتھ گزارے گا۔ جتنی بھی کالز آئیں گی، ان پر بھی ہم اس کو ساتھ لے کر جائیں گے۔ اگر زیادہ خطرہ ہوا تو فیلڈ پر نہیں لجائیں گے مگر اس کے لیے یونیفارم بھی بنوا لیں گے۔ وہ بچوں کا فائر فائٹنگ یونیفارم پورا دن زیب تن کر کے رکھے گا۔ بچے کی ماں بہت خوش ہوئی اور ان کا شکریہ ادا کر کے واپس ہسپتال پہنچ گئی۔ بدھ کو شام سات بچے اس شخص نے نیچے آکر ٹرک کا ہارن بجایا تو اس بچے کی ماں اس کو نیچے لے گئی۔ اس نے فائر ٹرک دیکھا تو اچھلنے کودنے لگا۔ وہ بہت خوش ہوا۔ وہ شخص اسے اٹھا کر ٹرک میں اپنے ساتھ فائر سٹیشن لے گیا۔

اس کو ادھر بچوں کا یونیفارم دیا۔ اس دن فائر سٹیشن میں تین کالز آئیں۔ تینوں پر اس کو ٹرک میں اپنے ساتھ والی سیٹ پر بٹھا کر لے کر گیا۔ جب وہ رات کو واپس آیا تو اتنا خوش تھا کہ اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔ اس کی ماں کو بھی بہت خوشی ہوئی اور اس نے جا کر اس فائر فائٹر کا شکریہ ادا کیا۔

اس واقعے کے بعد تین ماہ تک وہ بچہ زندہ رہا اور روز اسی دن کی کہانیاں اپنی ماں کو سناتا رہتا۔ وہ بیٹھ کر ہنستی رہتی تھی۔ تین مہینے بعد وہ منحوس گھڑی آن پہنچی جب وہ بہت کمزور اور سست پڑ گیا۔ ڈاکٹر نے بتا دیا کہ اس کے آخری کچھ گھنٹے رہ گئے ہیں۔ اس نے فائر فائٹر کو فون کیا اور اس سے درخواست کی کہ کسی ایک فائر فائٹر کو اس کے کمرے میں یونیفارم میں بھیج دے۔

اس نے کہا میڈم ہم آپ کے بیٹے کے لیے اس سے بہتر کر سکتے ہیں۔ باب نے ہسپتال کے عملے کو کال ملائی اور انہیں بتایا کہ عملے کو خبر کر دیں کی فائر ٹرک آرہا ہے اور زور زور سے سائرن بجاتے ہوئے ہی آئے گا مگر کوئی بھی پریشان نہ ہو کیونکہ وہ یہ سب کچھ اس بیمار بچے کے لیے کر رہے ہیں۔ جب فائر ٹرک آگیا تو فائر فائٹر نے سیڑھی سیدھی ہسپتال کی تیسری منزل پر بچے کے کمرے کی کھڑکی کو لگائی۔

پانچ فائر فائٹر کھڑ کی سے اندر داخل ہوئے اور ان کو دیکھ کر وہ بچہ کھل اٹھا۔ وہ اس کے پاس گئے اور اسے ہگ کیا۔ اس نے پوچھا کہ انکل میں اصل میں فائر فائٹر بن گیا ہوں کیا؟ تو اس نے پیار سے جواب دیا کہ ہاں بیٹا آپ اصل میں فائر فائٹر بن گئے ہو۔ یہ سن کر اس بچے نے آخری سانس لی اور آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے بعد اس نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ وہ فوت ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…