واشنگٹن (آئی این پی )دو عشروں تک زیر زمین رہنے کے بعد، سابق افغان قبائلی سردار گلبدین حکمت یار نے کابل لوٹ آتے ہی طالبان باغیوں کے ساتھ امن اور مغربی حمایت یافتہ حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا
،میرے لیے سب سے اہم معاملہ لڑائی کو ختم کرنا اور ملک کو بحران سے نکالنا ہے،پاکستان اور ایران جیسے ہمسایہ ملک مداخلت سے باز رہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکمت یار نے یہ بات صدارتی محل میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہی، جس میں انھوں نے صدر اشرف غنی کو درپیش ممکنہ پیچیدگیوں کی نشاندہی کی، جنھوں نے گذشتہ سال حکمت یار کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے نتیجے میں حزب اسلامی پارٹی حکومت میں شامل ہوئی۔اس تقریب سے پہلے حکمت یار کابل پہنچے، جس شہر پر 1990 کی خانہ جنگی کے دروان ان کی افواج نے بے دردری کے ساتھ حملے کیے تھے۔ ان کی آمد کا مقصد سیاسی میدان میں ایک نئی اہم فورس کا درجہ حاصل کرنا ہے سفید رنگ کے درجنوں ٹرکوں کا قافلہ، جس میں مسلح افراد سوار تھے، افغان پرچم اور سبز کتبے آویزاں کر رکھے تھے، ان کے سایے میں حکمت یار جلال آباد سے کابل پہنچے، جس مشرقی شہر میں ان کا پچھلے چند روز سے قیام رہا۔افغان طالبان کے سابق ساتھیوں کو بھائی قرار دیتے ہوئے، حکمت یار نے اپنے آپ کو ایک مصالحت کار کہا، جو امن لاسکتا ہے۔ وہ ایک شعلہ بیاں خطیب ہیں، جن کی تقریر کے دوران سننے والوں نے نعرے لگائے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کا جواز ختم ہوجائے گا۔غنی اور امریکیوں نے ایک طویل عرصے سے امن کیلیے طالبان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہیں۔ لیکن اس کے کوئی خاص نتائج برآمد نہیں ہوئے، اور حالیہ برسوں کے دوران بغاوت میں اضافہ ہوا، جس میں ہر سال ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔حکمت یار نے کہا کہ میرے لیے سب سے اہم معاملہ اِس لڑائی کو ختم کرنا اور ملک کو بحران سے نکالنا ہے۔ انھوں نے پاکستان اور ایران جیسے ہمسایہ ملکوں سے کہا کہ وہ مداخلت سے باز رہیں۔حزب اسلامی کے رہنما نے کہا کہ انھوں نے اس آئین کو تسلیم کر لیا ہے جو سنہ 2001 میں امریکی قیادت والی کارروائی کے دوران طالبان کی شکست کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔ لیکن، وہ چاہتے ہیں کہ اس میں ترامیم کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کے لیے پارلیمانی نظام حکومت مناسب نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ قومی یکجہتی پر مشتمل حکومت کام نہیں کر رہی، جس کی قیادت غنی اور چیف اگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کرتے ہیں، جب کہ 2014 کے متنازع انتخابات کے بعد تشکیل دینے کے لیے امریکہ نے مصالحتی کوششیں کی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ غنی یا عبداللہ کو استعفی دینی چاہیئے۔



















































