جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کی سب سے وزنی مصری خاتون اب بھارت میں مزید علاج نہیں کروائے گی،بڑا فیصلہ کرلیاگیا

datetime 30  اپریل‬‮  2017 |

ابوظہبی(آئی این پی)بھارت میں زیر علاج دنیا کی سب سے وزنی مصری خاتون ایمان عبدالعاطی کو آئندہ چند روز میں متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبئی اور شمالی امارات کیلئے وی پی ایس ہیلتھ کیئرگروپ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر شجیر غفار نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایمان آئندہ چند روز میں ابوظبی پہنچیں گی۔  ایک طبی ٹیم اس وقت بھارت میں سیفی ہسپتال میں موجود ہے

یہ ٹیم مصری خاتون کی صحت کا جائزہ لے رہی ہے اور اسے اماراتی دارالحکومت کے برجیل ہسپتال منتقل کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ ڈاکٹر غفار نے بتایا کہ اماراتی حکام نے ایمان اور اس کی بہن شیما کے لیے غیر معینہ مدت کا ویزا جاری کر دیا ہے۔ڈاکٹر غفار نے امارات اور بھارت کی جانب سے ایمان کے لیے ابھی تک پیش کی جانے والی بھرپور سپورٹ پر دونوں ملکوں کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایمان کو طبعی زندگی کی جانب واپس لانے کے واسطے ایک جامع پروگرام کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔یاد رہے کہ ایمان عبدالعاطی اسکندریہ شہر میں واقع اپنے گھر میں گزشتہ 25 برسوں سے صاحبِ فراش تھی۔ اس کی وجہ ایمان کا وزن تھا جو ایک موقع پر 500 کلوگرام تک پہنچ گیا تھا۔ایمان کو رواں برس فروری میں قاہرہ سے بھارت لایا گیا تھا۔ اس سے قبل مصری شہری دفاع کی فورس نے ایمان کے گھر میں اس کے کمرے کی دیوار گرائی تاکہ کرین کے ذریعے اسے گھر سے باہر لایا جا سکے۔ بعد ازاں ایمان کو کارگو جہاز تک پہنچانے کے واسطے اس کے لیے ایک خصوصی بستر تیار کیا گیا۔دوسری جانب ایمان کی بہن شیما نے کچھ عرصہ قبل بھارتی ڈاکٹر اور ہسپتال پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ اس کی بہن کا وزن کم نہیں ہوا جیسا کہ اس کے معالج نے دعوی کیا تھا۔شیما نے کہا تھا کہ وہ ایمان کے امارات منتقل کیے جانے پر خوش ہیں اس لیے کہ انہیں بھارت میں اپنی بہن کے لیے پیش کی جانے والی طبی دیکھ بھال اور خدمات پر اعتماد نہیں رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…