بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ میں 19سعودی خواتین کو اعزازات سے نوازدیا

datetime 13  مارچ‬‮  2017 |

نیویارک (این این آئی)امریکا کے شہر نیویارک میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے نے میسا چیوسٹس جنرل اسپتال اور ہارورڈ میڈیکل اسکول میں ماہر امراض دل کے طور پر خدمات انجام دینے والی سعودی ڈاکٹر رشا فہد الباوردی سمیت 19 سعودی خواتین کو اعزازات سے نوازا گیا ہے۔انھیں اعزازت سے نوازنے کی تقریب خواتین کے عالمی دن کے سلسلے میں منعقد کی گئی تھی اور سعودی قونصل جنرل خالد محمد الشریف نے انھیں

اعزازات دیے ہیں۔ تقریب میں متعدد قونصل جنرل اور سفارت کار موجود تھے۔ڈاکٹر الباوردی کو سعودی خواتین کے لیے طب کی تعلیم میں ایک منفرد مثال قائم کرنے میں ان کے کردار کے اعتراف کے طور پر اعزاز دیا گیا ہے۔انھوں نے متعدد رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے طب کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اور دنیا کے سب سے نمایاں تعلیمی ادارے ہارورڈ یونیورسٹی میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔آج وہ ہارورڈ میڈیکل اسکول میں کل وقتی پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ڈاکٹر الباوردی نے نیویارک میں سعودی مشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری امی نے بچپن میں ہمیں یہ سکھایا تھا کہ دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی ہے اور کوئی بھی شخص اگر ذہنی طور پر ارادہ کرلے تو وہ اپنے متعیّن کردہ اہداف کو حاصل کرسکتا ہے۔ڈاکٹر الباوردری نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن اور ہیلتھ سائنس میں اپنے شاندار تعلیمی ریکارڈ کی بدولت ایسے وقت میں داخلہ لیا تھا جب امریکا کے طبی اسکولوں میں خال خال ہی غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دیا جاتا تھا۔انھوں نے اس یونیورسٹی سے میڈیکل سائنس میں انڈر گریجو ایٹ اور جینومیکس اور بائیو انفارمیٹکس میں گریجوایٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔اس کے بعد انھوں نے نیویارک میں البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن میں داخلہ لیا تھا جہاں انھوں نے تین سال تک کارڈیالوجی کی تعلیم حاصل کی

تھی۔انھوں نے بتایا کہ میں نے کالج میں متعدد تحقیقی پروگراموں پر کاموں کیا تھا۔ پھر میں نے میسا چیوسٹس جنرل اسپتال میں ملازمت اختیار کر لی اور آج بھی وہیں کام کررہی ہوں۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ امراضِ قلب ( کارڈیالوجی) کے شعبے میں طبی تحقیق کے ذریعے اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…