پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

عمران خان کے بعدایازصادق بھی اچانک ذوالفقارمرزا کے پاس پہنچ گئے

datetime 2  جنوری‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی)سپیکرقومی اسمبلی ایازصادق نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر ادارہ اپنے دائرہ کار کے اندر کام کر رہا ہے،جو بھی منتخب ہو کر اسمبلی میں آئے اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔وہ پیر کو کراچی میں ذوالفقار مرزا کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں جمہوریت وقت کے ساتھ مستحکم ہورہی ہے پاکستان میں ہر ادارہ اپنے دائرہ کار کے اندرکام کر رہا ہے،جو بھی منتخب ہوکر اسمبلی میں آئے اسے خوش آمدید کہا جائے گا،ملک میں نیشنل ایکشن پلان کے اچھے نتائج برآمد ہوئے،انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تجاویز پارلیمنٹ میں پیش ہوں گی۔ایازصادق نے کہاکہ جو مجھے سپیکر نہیں مانتے وہ آئین کو نہیں مانتے،آئینی طور پر اسمبلی کا اسپیکر ہوں،مرزا صاحب سے میری ملاقات زرداری صاحب نے 20سال قبل کرائی تھی۔آج موقع نہیں ورنہ فہمیدہ مرزا سے ایوان چلانے کی ٹپس لیتا۔

واضح رہے کہ دو دن قبل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ذوالفقار مرزا کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کرنے انکے گھر گئے تھے جہاں انہوں نے مرزا سے ملاقات کی اور مرحومہ کی مغفرت اوربلند درجات کیلئے دعا بھی کی۔اس موقع پر ذوالفقار مرزا نے عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کے آنے سے خوشی ہوئی ‘‘۔ ملاقاتوں کاسلسلہ بند نہیں ہونا چاہئیے جس پر چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ تعزیت میرا فرض تھا۔انہوں نے ذوالفقار مرزا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ الیکشن میں ملک میں بڑی تبدیلی دیکھ رہاہوں۔انتخابات سے قبل ہماری پارٹی کی توجہ سندھ پرزیادہ ہوگی۔ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی اہلیہ فہمیدہ مرزا نے عمران خان سے کہا کہ آپ نے کینسرہسپتال کاسنگ بنیادرکھ کربڑاکام کیاہے۔شوکت خانم ملک کاسب سیبڑاکینسرہسپتال ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…