کراچی(این این آئی) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہاہے کہ عدلیہ کے فیصلے حق میں ہوں یا مخالفت میں، قبول کرنے ہی پڑتے ہیں،سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ناانصافی ہوئی لیکن پیپلزپارٹی نے اسے قبول کیا ۔ 900ارب لگاکر بھی صوبہ کھنڈر نظر آئے تو دوسروں کے بجائے اپنا احتساب کرنا چاہیے ۔ پنجاب کے تمام شہروں کی حالت بدل رہی ہے تو سندھ میں کیوں نہیں بدل سکتی ،کراچی کچرے کا ڈھیر بنا ہواہے ،یہاں کی سڑکیں اور ٹرانسپورٹ کا نظام ٹھیک نہیں ہے۔ کراچی سرکلرریلوے کراچی کی ضرورت ہے، میٹروٹرین اورمیٹروبس سب سے پہلے کراچی میں بننی چاہیے تھی،3 سال پہلے ریلوے کباڑ خانہ تھا، لیکن اب آہستہ آہستہ تبدیلی آرہی ہے،فاروق ستار کے نفرت انگیز بیان سے لاتعلقی کے اظہار کو سراہتا ہوں ،بانی ایم کیوایم کی مہربانی ہے کہ انہوں نے خود کو سیاست سے الگ کرلیا ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ہفتہ کو یہاں ساڑھے 16 کروڑروپے کی لاگت سے اڑتالیس نئے فلیٹس کے تین بلاک تعمیر کروانے کا سنگ بنیاد رکھا جو جنوری 2018 میں تکیمل کو پہنچیں گے ،رہائشی منصوبے کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ سعدرفیق نے کہاکہ پانامہ لیکس پرفیصلہ جوبھی فیصلہ آئے قبول کریں گے۔عدلیہ کے فیصلے حق میں ہوں یامخالفت میں قبول کرنے ہی پڑتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ادارے کے ملازمین کی طرز زندگی بہتر بنانے کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی متعارف کروائی ہے، 16 فلیٹس کی 3 عمارتیں2018 میں مکمل ہوں گی، ریلوے ملازمین کی رہائش کے منصوبے پر 165 ملین روپے لاگت آئے گی، ریلوے کے بڑے افسران بڑے بڑے گھروں میں رہ رہے ہیں لیکن ہم بڑے بڑے بنگلے والے افسران کے گھروں کو چھوٹا کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہاؤسنگ اسکیم میں سیاسی بنیادوں پرالاٹمنٹ نہیں دیں گے ۔کراچی سرکلرریلوے کی بحالی کے متعلق وزیر ریلوے نے بتایاکہ انہوں نے پہلے بھی دوبار سابق وزیرِ اعلی قائم علی شاہ سے بات کی اور وہ اب مراد علی شاہ سے بھی بات کرنے کوتیار ہیں، کیونکہ سرکلرریلوے کراچی کی ضرورت ہے،صوبے کو 350ایکٹر زمین دے چکے ہیں تاکہ وہ اس پر اورنج لائن جیسا منصوبہ بنائیں ،کراچی سمیت پور ا سندھ کھنڈر اور آثار قدیمہ کا منظر پیش کرتا ہے جو انتہا ئی افسوسناک ہے،جس صوبے میں کچرے کے ڈھیر ہوں ، وہاں کے حکمرانوں کو بڑی تقریریں نہیں کرنی چاہیں، شہر قائد میں ٹرانسپورٹ کی صورتحال انتہائی ناقص ہے،شہر کے سرکلر ریلوے کے لئے وفاق کو بیچ میں ڈالنے کی ضرورت نہیں تھی ۔انہوں نے کہاکہ ریلوے کی زمین پرقبضہ کرنیوالے موٹے مرغوں کو ڈنڈے مارکر نکال دینا چاہیے۔ یہ ہماری پالیسی ہے ہم کچی آبادی کو چھیڑتے نہیں اورموٹے مرغوں کو چھوڑتے نہیں ہیں، آئی جی سندھ سے قبضے کی زمین چھڑانے کے لیے بات کروں گا، تجاوزات اورقبضہ گروپ کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے تاہم ریلوے میں خرابی ابھی موجود ہے، کچھ دور بھی کی گئی ہے، لیکن اپنی ذمے داری ایمانداری ، دیانت داری سے پوری کی ہے اور کررہے ہیں۔3سال پہلے ریلوے کباڑ خانہ تھا، لیکن اب آہستہ آہستہ تبدیلی آرہی ہے.وفاقی زیرریلوے نے کہا کہ ریلوے کی زمین میں کچی آبادیاں بنائی ہوئی ہیں، کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب 25کینال زمین ریلوے کو مل گئی ہے، ہم ریلوے کی زمینوں کو پورے ملک میں کمپیوٹرائز کررہے ہیں لیکن سندھ میں ریلوے کی زمینوں کو کمپیوٹرائز کرنے کا کام تھوڑا سست چل رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ رہتا ہے،فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے بہت ہمت دکھائی ہے، نفرت انگیز بیان سے اظہارلاتعلقی کو سراہتا ہوں،مجھے معلوم ہے کہ متحدہ کے سینئرافراد صورتحال سے تنگ تھے ،بانی ایم کیوایم کی مہربانی ہے کہ انھوں نے خود کو سیاست سے الگ کرلیا ہے۔خواجہ سعدرفیق نے کہاکہ کراچی میں ایک جماعت کا جھنڈا اترا تو دوسرے نے اپنا لگا لیا، الطاف حسین نے ان لوگوں کا کام آسان کیا جو صاف راستہ چاہتے تھے۔
مسلسل ٹرین حادثوں کی وجہ سے تنقید،سعد رفیق کا حیرت انگیز جواب
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(آخری حصہ)
-
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کا امکان
-
ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند؟ بڑا اعلان سامنے آگیا
-
عوام کے لئے ریلیف ! پیٹرول 55 روپے مہنگا کرنے کے بجائےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
آبنائے ہرمز کھل گئی
-
عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتو ں میں اضافہ
-
سونے کی قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ
-
ملک بھر میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی
-
چھٹیوں میں اضافے کی خبریں! وزیرتعلیم پنجاب کا اہم بیان آگیا
-
ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
-
ایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 سٹریٹجک شرائط پیش کردیں
-
خیبرپختونخوا حکومت نے طورخم بارڈر کھولنے کی منظوری دیدی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑا اضافہ
-
نمبر پلیٹس سے متعلق سخت کریک ڈاؤن کا اعلان



















































