بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

ماں کی نافرمانی

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

ان کے انتقال کا وقت قریب آ گیا لیکن جان نکلنے میں بہت تکلیف ہورہی تھی گھر والوں نے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ اتنے پرہیز گار اور متقی ہونے کے باوجود بھی انکی زبان سے کلمہ جاری نہیں ہو رہا تھا ، گھر والے بھی پریشان ہو گئے کہ نہ جانے ان سے ایسا کونسا گناہ ہو گیا کہ جان کنی کے وقت کلمہ نصیب نہیں ہو رہا ، وہ کوئی عام انسان نہیں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں شامل تھے انکا نام علقمہ تھا چنانچہ انکی بیوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ اطلاع بھجوائی کہ باوجود تلقین کے انکی زبان پر کلمہ جاری نہیں ہو رہا آپ نے فرمایا کہ علقمہ کے والدین زندہ ہیں یا نہیں ۔ بتایا گیا کہ صرف والدہ زندہ ہیں لیکن وہ کسی وجہ سے ناراض ہیں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی والدہ کو پیغام بھجوایا کہ میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں کیا میں آپ کے پاس آؤں یا آپ میرے پاس آ جائیں گی انکی والدہ نے کہا کہ اے اللہ کے نبی میں آپ کو تکلیف نہیں دے سکتی میں خود حاضر خدمت ہوتی ہوں چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کی خدمت میں حاضر ہو گئی آپ نے علقمہ کے متعلق پوچھا کہ وہ کیسا آدمی ہے ان کی والدہ نے بتایا کہ وہ بہت نیک ہے ۔ نماز روزہ کا پابند ہیں لیکن اپنی بیوی کے معاملے میری نافرمانی کرتا ہے اس لیے میں اس سے ناراض ہوں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ کا حال انکی والدہ کو بیان کیا کہ انکی زبان پر کلمہ جاری نہیں ہو رہا اور جان نہیں نکل رہی اس لیے آپ انہیں معاف کردیں لیکن انکی والدہ نے غصے کی وجہ سے انکار کر دیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہہ کو حکم دیا کہ لکڑیاں جمع کرو اور علقمہ کو جلا دو ۔ انکی والدہ یہ سن کر گھبرا گئی اور حیرت سے پوچھا کہ کیا میرے بیٹے کو آگے میں ڈالا جائے گا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔ اللہ کے عذاب کے مقابلے میں ہمارا عذاب بہت ہلکا ہے ، خدا کے قسم جب تک تم اس سے ناراض ہو نہ تو اسکی کوئی نماز قبول ہے اور نہ صدقہ ۔انکی والدہ نے کہا کہ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ میں نے انہیں معاف کردیا اور انکی غلطیوں کو درگزر کر دیا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ علقمہ کا حال دیکھو ، لوگوں نے بتایا کہ انکی زبان پر کلمہ بھی جاری ہوگیا ہے اور انکی جان بھی نہایت آسانی سے نکل گئی ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے غسل اور کفن کا حکم دیا اور خود انکے جنازے میں تشریف لے گئے ، دفن کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایاجس شخص نے اپنی ماں کی نافرمانی کی یا اسے تکلیف پہنچائی تو اس پر اللہ کی لعنت ، فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنتاللہ اسکا کوئی نیک عمل قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے اور اپنی ماں کے ساتھ اچھائی کا معاملہ کرکے اسے راضی نہ کر لے یاد رکھو کہ اللہ کی رضامندی ماں باپ کی رضامندی میں ہے اور اللہ کا غصہ ماں باپ کے غصہ میںاب اس واقعہ کو پڑھ کر ہم سوچیں کہ ایک صحابی رسول نے ماں کی ذرا سی نافرمانی کی تو انکے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا ، جبکہ وہ بہت نیک اور پرہیز گار تھے ، اور ایک طرف ہم ہیں کہ ہمارے پلے کچھ بھی نہیں ہے اور ماں باپ کا دل دکھانے سے بھی باز نہیں آتے تو ہم کس طرح اپنی بخشش کی امید لگائے بیٹھے ہیں.



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…