جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

قندیل بلوچ کوکس نے قتل کرایا،والد رو پڑا،اہم شخصیت کا براہ راست نام لے لیا

datetime 10  ستمبر‬‮  2016 |

ملتان (این این آئی)ایڈیشنل سیشن جج ملتان نے قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث ملزم ظفر کی ضمانت منظور کرنے ٗ ملزم عبدالباسط کی ضمانت خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق مقتولہ کا والد عدالت میں روپڑا اور الزام لگایا کہ اس کی بیٹی کے قتل میں مفتی عبدالقوی شامل ہے۔ عدالت میں ملزموں ظفر اور ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط نے درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری دائر کی تھی۔مدعی اور مقتولہ کے والد عظیم خان نے عدالت میں رونا شروع کردیا اور کہا کہ اس کی عمر 80 سال سے زائد ہے اور وہ خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہے کہ ملزموں نے اس کی بیٹی کو قتل کیا ہے ٗ ملزم عبدالباسط کار کے ساتھ کھڑا رہا، اصل ملزم حق نواز ہے ٗ مفتی عبدالقوی بھی شامل ہے جس نے اس کی بیٹی کے خلاف غلط پراپیگنڈہ کیا جس کی وجہ سے ملزموں نے قتل کا پلان بنادیا۔ پراسیکیوشن کے پرائیویٹ وکیل نے کہا یہ غیرت کے نام پر نہیں بلکہ سماجی دباؤپر قتل ہے اور یہ دباؤ مفتی عبدالقوی نے پیدا کیا۔دوسری طرف مقتولہ قندیل بلوچ، مفتی عبدالقوی، وسیم اور حق نواز کے موبائل فونز کی فورنزک رپورٹ فوررنزک لیبارٹری لاہور سے پولیس کو موصول ہوگئی ہے ۔ مفتی عبدالقوی کو آخری بار قندیل بلوچ کی طرف سے معذرت کے دس پیغامات بھیجے گئے۔ سعودی عرب میں مقیم مقتولہ کے بھائی نے ملزم وسیم کو قتل کرنے کیلئے آخری فون کیا۔ ملتان پولیس کو مقتولہ قندیل بلوچ کے موبائل فون، آئی پیڈ کے علاوہ مفتی عبدالقوی اور دونوں ملزمان کے موبائل فون کی فورنزک رپورٹ موصول ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ قندیل بلوچ کی مفتی عبدالقوی سے آخری بار بات 22 جون کو شام 6بجے ہوئی اور اس روز قندیل بلوچ کی طرف سے مفتی عبدالقوی کو معذرت کے دس ٹیکسٹ پیغامات بھیجے گئے لیکن مفتی عبدالقوی کی طرف سے جواب نہیں دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…