ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

اولمپکس کے کھلاڑی اپنا تمغہ منہ میں ڈال کر کیوں چباتے ہیں ؟ انہیں ایسا کرنے کا کون کہتا ہے ؟ حیران کن انکشاف جو آپ کو پہلے نہیں پتا ہوگا

datetime 7  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اگر آپ اولمپکس مقابلے دیکھنے کے شوقین ہیں تو آپ نے ہوسکتا ہے اس بات کو نوٹ کیا ہو کہ بڑی تعداد میں کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑی اپنے سونے یا چاندی کے تمغوں کو چباتے ہوئے نظر آتے ہیں۔پرانے زمانے میں سونے کی پہچان کے لیے اسے چبایا جاتا تھا مگر کیا ان ایتھلیٹس کا ماننا ہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی ان کے ساتھ دھوکا کرنے والی ہے؟ کیا کسی کو لگتا ہے کہ وہ میڈل کی جگہ چاکلیٹ کو چبا رہا ہے؟ایسا درحقیقت کسی کے احکامات کے نتیجے میں ہوتا ہے اور وہ ہیں فوٹوگرافرز۔
جی ہاں جب اولمپک مقابلوں میں میڈل جیتنے والے ایتھلیٹ تصویر کھنچوا رہے ہوتے ہیں تو وہاں جمع فوٹوگرافرز ان سے مطالبہ کرتے ہیں سیدھا کھڑے ہوکر محض مسکرانے کے بجائے کچھ الگ کریں۔چونکہ ان کے ہاتھ میں کچھ اور تو ہوتا نہیں لہٰذا کامیاب کھلاڑی اپنے میڈلز کو ہی منہ میں ڈال کر چبانے کی اداکاری کر کے فوٹوگرافرز کو مطمئن کردیتے ہیں۔اگر آپ کو کبھی یہ خیال آیا ہو کہ ایسا کرنے کے نتیجے میں کبھی کسی کا دانت تو نہیں ٹوٹ گیا تو اس کا جواب ہے، ہاں ایسا ہوچکا ہے، تاہم گرمائی کی بجائے سرمائی اولمپکس میں۔2010 میں جرمنی کے ڈیوڈ مولر کا دانت چاندی کے میڈل کو چبانے کے دوران ٹوٹ گیا۔جیسا بتایا جاچکا ہے کہ سونے کو چبا کر اس کے اصلی ہونے کی شناخت کی جاسکتی ہے، یعنی اصل سونے میں دانتوں کے چبانے کا ہلکا سا نشان آجاتا ہے۔مگر اولمپک ایتھلیٹس کو یہ بات تو معلوم ہوتی ہے کہ ان کا گولڈ میڈل کا زیادہ تر حصہ چاندی اور تانبے پر مشتمل ہوتا ہے۔اگر ان کا میڈل مکمل طور پر سونے کا ہو تو جتنے تمغے تقسیم ہوتے ہیں اس کے لیے آئی او سی کو 17 ملین ڈالرز خرچ کرنا پڑ جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…