جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کو کالا باغ ڈیم بنانا ہے تو ۔۔۔۔پیپلزپارٹی نے پیشکش کردی

datetime 6  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ صوبوں کو منتقل ہونے والے ادارے وفاق میں دوبارہ قائم کرنا مناسب نہیں ہوگا ،صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا عمل روکا گیا تو تاریخ اپنا حساب خود لے گی،حکومت کو کالا باغ ڈیم بنانا ہے تو مشترکہ مفادات کونسل کا فورم استعمال کرے، ایک بیوروکریٹ کس کے کہنے پر ڈیم کی حمایت میں لکھ رہا ہے۔سینیٹ کے 44ویں یوم تاسیس پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم پر صوبائی اسمبلیوں کی قراردادوں کے برعکس ایک بیورو کریٹ کے اس کی حمایت میں بیانات اخبارات کی زینت بنے ہوئے ہیں، حکومت اگر کالا باغ ڈیم کو پالیسی کا حصہ بنانا چاہتی ہے تو معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جائے۔نصاب بورڈ کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے نصاب بورڈ کا قیام غیر آئینی ہے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وفاق کی طرف سے ایک صوبے میں اپنی شرائط پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دستے بھیج دینا صوبے پر چڑھائی کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک صوبے میں چھوٹو گینگ، بچوں کے اغوا ء اور جی ایچ کیو حملے کے بعد بھی کہا جاتا ہے کہ نظام ٹھیک چل رہا ہے۔سیمینار سے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اسپیکرز نے بھی خطاب کیا اور وفاق کو درپیش چیلنجز میں سینیٹ کے کردار پر روشنی ڈالی۔مسلم لیگ ( ن)کے سینیٹر مشاہد اللہ خان اور سابق چیئرمین سینیٹ نیئر بخاری نے وفاق کو مضبوط بنانے، آئین کی بالا دستی اور تمام اداروں کے اپنی حدود میں رہنے پر زور دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…