مظفرآباد/راولا کوٹ /باغ (آئی این پی )آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 10ویں انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پہلی مرتبہ مقابلہ کرنے والی جماعت مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے میدان مارلیا ، جبکہ انتخابات میں بعض بڑے برج بھی الٹ گئے ، پی ٹی آئی کے بیرسٹر سلطان محمود چوہدر ی (ن) لیگ کے چوہدری محمد سعید کے ہاتھوں شکست کھاگئے ، ایل اے 32سے (ن) لیگ کے چوہدری اسحاق جیتنے میں کامیاب ، مسلم لیگ (ن) کے وزارت عظمیٰ کے لئے امیدوار راجہ فاروق حیدر ، شاہ غلام قادر ،اور نکیال سے لیگی امیدوار راجہ فاروق سکندر بھی فاتح قرار پائے ،حلقہ ایل اے 13باغ ون سے مسلم کانفرنس کے سربراہ ا سردار عتیق 19860 ووٹ لے کر کامیاب ،حلقہ ایل اے 2 میرپورسے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور موجود وزیراعظم چوہدری مجید 5ہزار 700ووٹ لے کر اپنی نشست کا دفاع کرنے میں کامیاب ہوگئے،مسلم لیگ (ن )کے اتحادی اور جے کے پی پی کے سربراہ سردار خالد ابراہیم نے 26415ووٹ لے کر آزادکشمیر کے صدر کی صاحبزادی فرزانہ یعقوب کو شکست سے دوچار کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 10ویں انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پہلی مرتبہ مقابلہ کرنے والی جماعت مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے میدان مارلیا ، جبکہ انتخابات میں بعض بڑے برج بھی الٹ گئے۔غیر حتمی نتائج کے مطابق حلقہ ایل اے 3سے (ن) لیگ کے چوہدری محمد سعید 11ہزار 941ووٹ سے پہلے اور تحریک انصاف کے بیرسٹر سلطان 10ہزار 993ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے وزارت عظمیٰ کے لئے امیدوار راجہ فاروق حیدر ، شاہ غلام قادر ،اور نکیال سے لیگی امیدوار راجہ فاروق سکندر بھی فاتح قرار پائے ،حلقہ ایل اے 13باغ ون سے مسلم کانفرنس کے سربراہ ا سردار عتیق 19860 ووٹ لے کر کامیاب ، حلقہ ایل اے 32سے (ن) لیگ کے چوہدری اسحاق17ہزار636ووٹ لیکر پہلے جبکہ تحریک انصاف کے حامد رضا12ہزار 926ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبرپر رہے ۔اسی طرح حلقہ ایل اے 2 میرپورسے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور موجود وزیراعظم چوہدری مجید 5ہزار 700ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور (ن) لیگ کے امیدوار 5ہزار200 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ۔مسلم کانفرنس کے سربراہ اور حلقہ ایل اے 13باغ ون سے سردار عتیق 19860 ووٹ لے کر کامیاب ہو ئے اور جماعت اسلامی کے امیدوار محمد لطیف خلیق کو شکست سے دو چار کیا ۔مسلم لیگ (ن )کے اتحادی اور جے کے پی پی کے سربراہ سردار خالد ابراہیم26415ووٹ لے کر کامیاب رہے ۔انہوں نے آزادکشمیر کے موجودہ صدر سردار یعقوب خان کی بیٹی فرزانہ یعقوب کو شکست سے دوچار کیا ۔جنت نظیروادی آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے چنا ؤکے لئے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی ۔انتظامیہ کی جانب سے انتخابات کے لئے 5429 پولنگ اسٹیشنز اور 8048 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے جب کہ الیکشن کمیشن کا مرکزی کنٹرول روم مظفر آباد میں قائم کیا گیا۔ انتخابات کے لئے 37 ہزار500 سیکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے، ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر ایک فوجی اہلکار بھی تعینات تھا جسے مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے گئے۔ حساس پولنگ اسٹیشنز پر 6 پولنگ سیکیورٹی اہلکار جب کہ نارمل پولنگ اسٹیشنز پر 4 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا جن میں پاک فوج کا ایک جوان بھی شامل تھا۔آزاد کشمیر میں کئی پولنگ اسٹیشنز پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی جب کہ حویلی میں پولنگ اسٹیشن کے باہر ہوائی فائرنگ کرنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ میرپور میں ڈڈیال روڈ پر ووٹ ڈالنے کے لئے لائن میں کھڑا شخص دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگیا۔ اس کے علاوہ برنالہ کے علاقے جنڈ پیرا میں چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس سعید بغیر شناختی کارڈ کے ووٹ کاسٹ کرنے پہنچے تو انھیں ووٹ کاسٹ کرنے نہیں دیا گیا جب کہ برنالہ میں ہی جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کرنے والے 4 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 49 میں سے 41 نشستوں کے لئے 324 امیدواروں نے آزاد کشمیر سے اور 99 مہاجرین امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ انتخابات میں آزاد کشمیر اور پاکستان سے 26 لاکھ 74 ہزار586 ووٹروں کو حق رائے دہی استعمال کرنا تھا جن میں 11 لاکھ 90 ہزار839 خواتین بھی شامل تھیں تاہم ووٹ ڈالنے کی شرح مناسب رہی۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی قانون ساز اسمبلی میں 6 نشستیں، میرپور کی 4، رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے ضلع نیلم کی ایک نشست جب کہ ضلع باغ کی اسمبلی میں 4 نشستیں ہیں۔ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے کسی بھی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کیا تاہم بعض حلقوں میں جماعت اسلامی اور (ن) لیگ جب کہ بعض مقامات پر پی ٹی آئی اور مسلم کانفرنس نے اتحاد کیا ہے۔آزاد کشمیر کی اسمبلی 49 اراکین پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان نشستوں کی تقسیم کچھ یوں ہے کہ پہلی 29 نشستوں پر آزاد کشمیر کے 26 لاکھ 74 ہزار 584 ووٹرز اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں جب کہ 12 نشستوں پر پاکستان میں موجود 4 لاکھ 38 ہزار 884 کشمیری مہاجرین حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔ 8 نمائندے مخصوص نشستوں سے آتے ہیں جن میں 5 خواتین، ایک عالم دین، ایک اوورسیز پاکستانی اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست ہوتی ہے۔ وزیراعظم اس پارٹی یا اتحاد کا بنے گا جس کے پاس سادہ اکثریت یعنی کم از کم 25 سیٹیں چاہئیں ہوں گی۔واضح رہے کہ 29 امیدواروں کا انتخاب عوام آزاد کشمیر نے جب کہ 12 کا انتخاب پاکستان میں موجود کشمیریوں نے کیا۔
وزیراعظم بننے کے لئے کامیاب جماعت کو کتنی نشستیں درکار؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری
-
اواتار مائونٹین
-
خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
-
یکم جولائی کے بعد پاسپورٹ دفاتر جانے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
دورانِ شاپنگ ماں بچوں کو گاڑی میں بھول گئی، شدید گرمی سے 2 کمسن بہن بھائی ہلاک
-
3 روزہ تعطیلات کا اعلان
-
عوام کو جلد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی خوشخبری ملنے والی ہے، بڑا اعلان
-
شہباز شریف نےصدر زرداری کو چھتری دینے سے انکار کر دیا، نور خان ائیر بیس پر دلچسپ صورتحال
-
بھارتی شہری کوایئرلائن کی میزبان سے چھیڑچھاڑ مہنگی پڑ گئی
-
جون میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی
-
سرگودھا میں شہریوں نے کمسن بچی کے قاتل کو قبرستانوں میں دفنانے کی اجازت نہ دی
-
سلمان خان کی24 سال قبل دیا مرزا سے کی گئی انوکھی پیشگوئی



















































