جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

شام پر حملہ،امریکہ میں بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 17  جون‬‮  2016 |

واشنگٹن(این این آئی)درجنوں امریکی سفارت کاروں نے ایک داخلی میمو پر دستخط کردیئے جس میں شام سے متعلق حکومتی پالیسی پر تنقید کی ہے اور اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف ٹارگٹڈ فوجی حملے کیے جائیں۔اس مراسلے پر امریکی محکمہ خارجہ کے درمیانے درجے سے لے کر اعلیٰ درجے تک کے افسران نے دستخط کیے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق خط میں سفارتکاروں نے موقف اختیار کیا کہ موجودہ پالیسی شامی صدر کو طاقت میں رہنے کے لیے مدد فراہم کر رہی ہے اور یہ شامی اپوزیشن کے خلاف ہے۔اس قسم کی اختلافی دستاویز کا محکمہ خارجہ کو بھجوایا جانا غیر معمولی تو نہیں تاہم اتنی بڑی تعداد میں وائٹ ہاؤس کے موقف کے خلاف سفارتکاروں کی جانب سے آواز اٹھنا غیر معمولی ضرور ہے۔ادھرامریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس میمو کے موصول ہونے کی تو تصدیق کی ہے تاہم اس کے مواد کے حوالے سے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔خط میں اہلکار جنھوں نے اس دستاویز کو دیکھا ہے کا کہنا ہے کہ اسے بھیج دیا گیا ہے۔دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صدر بشارالاسد کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے بصورتِ دیگر ان کی حکومت باغیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی دباؤ محسوس نہیں کرے گی۔اس سے اس خدشے کی بھی عکاسی ہوتی ہے کہ امریکہ اور روس کی جانب سے شام کے لیے اپنائے گئے مشترکہ امن کے عمل کا خاتمہ اسد حکومت کو فائدہ دے رہا ہے۔مگر صدر اسد نے اعلانیہ طور پر عارضی جنگ بندی کا سامنا کیا اور انھیں ایران اور روس کی جانب سے فوجی حمایت حاصل ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حلب جیسے اہم شہر سمیت سٹیرٹیجک لحاظ سے اہم علاقوں کی دوبارہ عملداری چاہتے ہیں۔ادھر ماسکو کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جہادیوں کے خلاف کی جانے والی بمباری سیز فائر میں نہیں آتی۔لیکن امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری جو اپوزیشن گروہوں سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ شامی حکومت زمین پر صورتحال کو تبدیل کر رہی ہ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…