جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

پہلے پانچ ماہ کے دوران مہاجرت اختیار کرنے والے 3400 افراد ہلاک ،لاپتہ

datetime 16  جون‬‮  2016 |

جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی ادارہ مہاجرت (آئی ایم او)نے کہاہے کہ رواں برس کے پہلے پانچ ماہ کے دوران مہاجرت اختیار کرنے والے تین ہزار چار سو افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے،اس عرصے میں یورپ پہنچنے کی خاطر اسّی فیصد مہاجرین نے سمندری راستہ اختیار کیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے حوالے سے بتایا کہ 2016 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران دستیاب معلومات کے مطابق مجموعی طور پر چونتیس سو مہاجرین اور تارکین وطن یا تو ہلاک ہو گئے یا پھر لاپتہ۔گزشتہ برس کے پہلے پانچ ماہ کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ رواں برس اس عرصے کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہونے والے مہاجرین کی تعداد میں بارہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس ایسے مہاجرین کی تعداد دو ہزار سات سو اسی ریکارڈ کی گئی تھی۔آئی او ایم کی طرف سے گزشتہ روز جاری کردہ ان معلومات کے مطابق گزشتہ برس کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہونے والے ایسے افراد کی مجموعی تعداد 54 سو رہی تھی۔آئی او ایم کی طرف سے عالمی سطح پر مہاجرت سے متعلق اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے شعبے کے ڈائریکٹر فرانک لاچکوکا کہنا تھا کہ شمالی افریقہ سے اٹلی کا سمندری راستہ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔برلن میں تعینات لاچکو نے کہا کہ اسی روٹ پر سفر کے دوران سب سے زیادہ مہاجرین ہلاک یا لاپتہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس تناظر میں فوری اقدامات کرنے چاہییں۔لاچکو نے بحیرہ روم کے سمندری راستے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف اپریل کے آخری ہفتے کے دوران ہی نو مختلف حادثات کے نتیجے میں کم از کم گیارہ سو مہاجرین ہلاک ہوئے تھے۔ شمالی افریقہ سے اٹلی پہنچنے کے لیے مہاجرین اور تارکین وطن غیر محفوظ کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں، جنہیں آئے روز ہی حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لاچکو کے مطابق اگرچہ ان کی ٹیم مختلف اداروں سے مل کر ان اعداد و شمار کو انتہائی محنت کے ساتھ جمع کر رہی ہے لیکن ان کے مصدقہ ہونے سے متعلق شکوک بہرحال موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے واقعات میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والے افراد کی درست تعداد کا علم ہو ہی نہیں سکتا۔آئی او ایم نے حکومتوں پر زور دیا کہ لاپتہ افراد کا سراغ لگانے کی کوششوں میں بہتری لائی جائے کیونکہ ایسے افراد کے رشتہ داروں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے، جو یہ تک نہیں جانتے کہ ان کے پیارے کہاں گم ہو گئے ہیں۔آئی ایم او کے ترجمان لیونارڈ ڈوئل کے بقول ایک مہاجر جب موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، تو اس سے وابستہ تقریبا بیس انسان بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر واقعات میں مرنے والے تارکین وطن کی لاشیں بھی برآمد نہیں کی جا سکتیں۔عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق گزشتہ بیس برسوں کے دوران تقریبا? ساٹھ ہزار افراد مہاجرت کے خطرناک سفر کے دوران ہلاک ہو چکے ہی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…