اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

بڑا بریک تھرو،طالبان نائب امیرسراج الدین حقانی نے اہم پیشکش کردی

datetime 15  جون‬‮  2016 |

کابل(این این آئی) طالبان کے نائب امیر سراج الدین حقانی نے کہاہے کہ شریعت میں رہتے ہوئے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔طالبان نے مذاکرات کے لیے وفد بھی بنا رکھا ہے، اگر ہم مذکرات کے حامی نہ ہوتے تو یہ وفد ہی تشکیل کیوں دیتے۔عالمی طاقتوں نے افغان عوام پر ایک کٹھ پتلی انتظامیہ مسلط کر رکھی ہے اور وہ ہم سے بھی اس انتظامیہ کا حصہ بننے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ کابل حکومت مکمل طور پر بے اختیار ہے اور وہ کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرا سکتی۔ ڈرون حملوں کی پالیسی سے افغان مجاہدین کا مورال کم نہیں ہوگا بلکہ اس سے ہماری تنظیم اور ارادے مزید مستحکم ہوں گے، حقانی نیٹ ورک کوئی علیحدہ تنظیم نہیں بلکہ طالبان کا ہی حصہ ہے، یہ ہمارے دشمن ہیں جو بدنام کرنے کے لئے ہمیں طالبان سے علیحدہ گروپ بتاتے ہیں،افغان میڈیا کے مطابق اپنے آڈیو پیغام میں سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ اگر شریعت میں رہتے ہوئے مذاکرات کئے جائیں تو طالبان مذاکرات کے لئے تیار ہیں، طالبان نے مذاکرات کے لیے وفد بھی بنا رکھا ہے، اگر ہم مذکرات کے حامی نہ ہوتے تو یہ وفد ہی تشکیل کیوں دیتے۔حقانی نیٹ ورک کے سربراہ کا اپنے آڈیو پیغام میں مزید کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں نے افغان عوام پر ایک کٹھ پتلی انتظامیہ مسلط کر رکھی ہے اور وہ ہم سے بھی اس انتظامیہ کا حصہ بننے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ کابل حکومت مکمل طور پر بے اختیار ہے اور وہ کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرا سکتی۔امریکا کی جانب سے افغانستان میں ڈرون حملے بڑھانے کی پالیسی کے حوالے سے سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی یہ پالیسی بھی اسی طرح ناکام ہو گی جس طرح گزشتہ 15 برس سے ان کی پالیسیاں ناکام ہو رہی ہیں، ڈرون حملوں کی پالیسی سے افغان مجاہدین کا مورال کم نہیں ہوگا بلکہ اس سے ہماری تنظیم اور ارادے مزید مستحکم ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کوئی علیحدہ تنظیم نہیں بلکہ طالبان کا ہی حصہ ہے، یہ ہمارے دشمن ہیں جو بدنام کرنے کے لئے ہمیں طالبان سے علیحدہ گروپ بتاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…