پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

بڑا بریک تھرو،طالبان نائب امیرسراج الدین حقانی نے اہم پیشکش کردی

datetime 15  جون‬‮  2016 |

کابل(این این آئی) طالبان کے نائب امیر سراج الدین حقانی نے کہاہے کہ شریعت میں رہتے ہوئے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔طالبان نے مذاکرات کے لیے وفد بھی بنا رکھا ہے، اگر ہم مذکرات کے حامی نہ ہوتے تو یہ وفد ہی تشکیل کیوں دیتے۔عالمی طاقتوں نے افغان عوام پر ایک کٹھ پتلی انتظامیہ مسلط کر رکھی ہے اور وہ ہم سے بھی اس انتظامیہ کا حصہ بننے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ کابل حکومت مکمل طور پر بے اختیار ہے اور وہ کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرا سکتی۔ ڈرون حملوں کی پالیسی سے افغان مجاہدین کا مورال کم نہیں ہوگا بلکہ اس سے ہماری تنظیم اور ارادے مزید مستحکم ہوں گے، حقانی نیٹ ورک کوئی علیحدہ تنظیم نہیں بلکہ طالبان کا ہی حصہ ہے، یہ ہمارے دشمن ہیں جو بدنام کرنے کے لئے ہمیں طالبان سے علیحدہ گروپ بتاتے ہیں،افغان میڈیا کے مطابق اپنے آڈیو پیغام میں سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ اگر شریعت میں رہتے ہوئے مذاکرات کئے جائیں تو طالبان مذاکرات کے لئے تیار ہیں، طالبان نے مذاکرات کے لیے وفد بھی بنا رکھا ہے، اگر ہم مذکرات کے حامی نہ ہوتے تو یہ وفد ہی تشکیل کیوں دیتے۔حقانی نیٹ ورک کے سربراہ کا اپنے آڈیو پیغام میں مزید کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں نے افغان عوام پر ایک کٹھ پتلی انتظامیہ مسلط کر رکھی ہے اور وہ ہم سے بھی اس انتظامیہ کا حصہ بننے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ کابل حکومت مکمل طور پر بے اختیار ہے اور وہ کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرا سکتی۔امریکا کی جانب سے افغانستان میں ڈرون حملے بڑھانے کی پالیسی کے حوالے سے سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی یہ پالیسی بھی اسی طرح ناکام ہو گی جس طرح گزشتہ 15 برس سے ان کی پالیسیاں ناکام ہو رہی ہیں، ڈرون حملوں کی پالیسی سے افغان مجاہدین کا مورال کم نہیں ہوگا بلکہ اس سے ہماری تنظیم اور ارادے مزید مستحکم ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کوئی علیحدہ تنظیم نہیں بلکہ طالبان کا ہی حصہ ہے، یہ ہمارے دشمن ہیں جو بدنام کرنے کے لئے ہمیں طالبان سے علیحدہ گروپ بتاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…