جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

’’مجھے بچالو‘‘ امریکی کلب پر حملے کے دوران ماں بیٹے کاالمناک پیغامات کا تبادلہ

datetime 13  جون‬‮  2016 |

وورلینڈو(اینا ین آئی) مینا جسٹس گہری نیند میں سورہی تھیں کہ انہیں اپنے بیٹے ایڈی جسٹس کا پیغام موصول ہوا، جو اس وقت اسی ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں تھا، جہاں مسلح شخص نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 50 افراد کو ہلاک اور 53 کو زخمی کردیا۔امریکی میڈیا نے بتایا کہ مینا جسٹس کو مقامی وقت کے مطابق رات 2 بج کر 6 منٹ پر اپنے 30 سالہ بیٹے کا پہلا پیغام موصول ہوا کہ امی، میں آپ سے پیار کرتا ہوں۔یہ میسج پڑھ کر مینا جسٹس نے اپنے بیٹے کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن سامنے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس کے انہوں نے اپنے بیٹے کو ردعمل پیغام میں لکھا کہ کیا تم ٹھیک ہو۔2 بج کر 7 منٹ پر مینا کو اپنے بیٹے کا ایک اور میسج ملا کہ باتھ روم میں پھنسا ہوا ہوں، جس پر مینا نے پوچھا ’کس کلب میں‘، جس پر جواب ملا کہ ’پلس، ڈاؤن ٹاؤن، پولیس کو فون کریں۔2 بج کر 8 منٹ پر ایڈی کا میسج آیا میں مرنے والا ہوں۔اب تک مینا جسٹس پوری طرح ہوش میں آچکی تھیں، انہوں نے فوراً پولیس ہیلپ لائن 911 پر کال کی، ساتھ ہی انہوں نے اپنے بیٹے کو میسج لکھا میں پولیس کو فون کر رہی ہوں، تم وہی ہو، مجھے فون کرو۔ہیلپ لائن پر آپریٹر نے مینا جسٹس کو لائن پر ہی رہنے کا کہنا، اس پورے وقت میں مینا یہی سوچ رہی تھی کہ نہ جانے ان کے بیٹے پر کیا آفت آپڑی ہے۔2 بج کر 39 منٹ پر ایڈی کا جواب آیا کہ وہ میری طرف آرہا ہے اور میں مرنے والا ہوں۔جس پر مینا نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ اب تک کوئی زخمی ہوا ہے اور وہ کس باتھ روم میں ہے‘، جس پر ایڈی کا 2 بج کر 42 منٹ پر جواب آیا کہ کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔مینا جسٹس اور ایڈی جسٹس کے درمیان وقفے وقفے سے پیغامات بھیجے جانے کا سلسلہ اچانک 2 بج کر 50 منٹ پر رک گیا جب ایڈی نے آخری میسج کیا کہ یہ دہشت گرد ہے۔اس کے بعد کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود مینا کو اپنے بیٹے کی کوئی خیر خبر نہیں ملی، جس پر انہیں کئی طرح کے خیالات آنے لگے۔کئی گھنٹوں بعد انتظامیہ نے مینا کو تصدیق کی کہ فائرنگ کے اس خوفناک واقعے میں ان کا بیٹا بھی مارا جاچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…