جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

11 ترک نژاد جرمن ارکان پارلیمنٹ کو’’حراست‘‘میں لے لیاگیا

datetime 12  جون‬‮  2016 |

برلن(این این آئی)جرمنی میں ترک نژاد 11 ارکان پارلیمان کو پولیس کی حفاظتی تحویل میں لے لیاگیا،ان ارکان پارلیمان کو 1915 میں سلطنت عثمانیہ میں آرمینی باشندوں کے قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دینے کی حمایت کے بعد قتل کی دھمکیاں ملی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمنی کی وزارت خارجہ نے ترک نڑاد ارکان پارلیمان کو ترکی کا سفر کرنے کے خلاف تنبیہ کی اور کہا کہ وہاں ان کی سکیورٹی کی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔جرمن پارلیمان کے اس اقدام سے ترک حکومت نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے جو آرمینی باشندوں کے قتل کو قتل عام نہیں سمجھتی۔11 ترک نڑاد جرمن ارکان پارلیمان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا اور انھیں ترک حکومت اور جرمنی میں قیام پذیر ترک باشندوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انقرہ کے میئر نے ان 11 ارکان پارلیمان کی تصویریں ٹوئٹر پر پوسٹ کی اور لکھا کہ انھوں نے ہماری پیٹھ کر چھرا گھونپا ہے۔جرمن میڈیا کے مطابق اس ٹویٹ کو بہت سارے ترک شہریوں نے ری ٹویٹ کیا، جن میں سے کچھ دھمکیاں دینے والے بھی شامل ہیں۔ترکی کے وکلا کے ایک گروہ نے ان ارکان پارلیمان کے خلاف ’ترک ریاست اور ترکیت کی توہین‘ کی درخواست دائر کی ہے۔خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں جرمنی کی پارلیمان میں آرمینی ’قتل عام‘ کی قرارداد کی منظوری کے بعد ترکی نے برلن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔آرمینیا کا دعویٰ ہے کہ 1915 میں 15 لاکھ آرمینی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت کم تھی اور اسے نسل کشی نہیں قرار دیا جا سکتا۔فرانس اور روس سمیت 20 سے زیادہ ممالک 1915 میں ہونے والی ان ہلاکتوں کو نسل کشی مانتے ہیں۔ترکی اس بات کی تردید کرتا ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران آرمینی باشندوں کی ہلاکتیں کسی منظم سازش کا حصہ تھیں۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے وقت ترک باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…