ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

شرارتی بچے ہوشیار ہو جائیں ، انکی جاسوسی کرنے والی ایپ آ گئی

datetime 30  جنوری‬‮  2015 |
امریکہ میں والدین کو اجازت ہے کہ وہ اپنے بچوں کے فونوں میں سپائی ویر ڈال سکیں

کیا آپ کو لگتا ہے کہ کوئی آپ کے بچے کو بُلی یا تنگ کر رہا ہے؟ یا اگر وہ ’سیکسٹنگ‘ کرتا ہے؟ یا منشیات فروشی کر رہا ہے؟ یہ سب چیک کرنے کے لیے ایک ایپ موجود ہے۔

امریکہ میں تقریباً 80 فیصد نوجوانوں کے پاس اپنے موبائل فون ہیں۔ ان موبائل فونوں میں سے آدھے سمارٹ فون ہیں جن میں انٹرنیٹ، گیمز، کیمرے اور سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہے۔

یہ بات والدین کو کافی پریشان کرتی ہے۔ اور ان پریشانیوں کے باعث والدین کے لیے خصوصی ایپس بنائی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھ سکیں۔

’ٹین سیف‘ والدین کے لیے ایک ذاتی سی آئی اے جاسوسی ایپ کے طور پر کام کرتا ہے۔

کمپنی والدین سے درخواست کرتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس بات سے مطلع کریں کہ وہ ان پر نظر رکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ ایپ خفیہ طور پر کام کرتی ہے اور دکھاتی ہے کہ بچے سوشل میڈیا پر کیا پوسٹ کر تے ہیں اور یہاں تک کہ سنیپ چیٹ، واٹس ایپ اور کیک جیسی ایپس کے ذریعے ان کے تلف کیےگئے میسجز اور ٹیکسٹ بھی دکھا سکتی ہے۔

’ٹین سیف‘ کے بانی روڈن میسینجر کہتے ہیں کہ: ’والدین اس قسم کی خفیہ سرگرمی بلکل قانونی طور پر کر سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ صحیح ہے؟ یہ اخلاقی فیصلے والدین کو کرنے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جہاں تک بچوں کی حفاظت کی بات ہے تو پرائیویسی سے زیادہ ضروری تحفظ ہے۔‘

روڈن کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں ’ٹین سیف‘ استعمال کرنے والے لوگوں میں سے آدھے اسے اپنے بچوں کی جاسوسی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ٹین سیف کے ذریعے والدین اپنے بچوں کی جاسوسی کر سکتے ہیں

ٹین سیف امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں استعمال کیا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ جلد برطانیہ میں بھی آئے گی۔ سنہ 2011 میں اس کے آغاز سے لےکر اب تک اس سروس کو آٹھ لاکھ لوگ استعمال کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا اور ٹیکسٹنگ کی جاسوسی کرنے کے علاوہ والدین کے لیے دیگر ایپس بھی بنی ہیں، جیسے کہ گاڑی کی سپیڈ معلوم کرنے والی ایک ایپ۔

اس ایپ کا نام ’ماما بیِئر‘ ہے اور اس کے شریک بانی روبن سپوٹو کہتے ہیں جب کوئی گاڑی کو رفتار کی حد سے اوپر چلاتا ہے تو یہ ایپ ان کے خاندان کو ایلرٹ کرتی ہے۔

روبن ماما بیئر اپنے والدین کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ لیکن کیا ان کے والدین اپنی بیٹی کی جاسوسی سے تنگ آتے ہیں؟

روبن کہتی ہیں کہ ان کے والدین کو اس ان کی جاسوسی کی عادت ہو گئی ہے۔

جب امریکی ریاست لاس اینجلس کے ایک شاپنگ سینٹر میں کچھ نوجوانوں سے پوچھا گیا کہ اگر انھیں لگتا تھا کہ ان کے والدین ان کی جاسوسی کرتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والدین بہت مصروف ہوتے ہونگے اور ان کے پاس جاسوسی کرنے کا ٹائم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والدین ان پر اعتماد کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…