منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مرد نے خواتین یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

datetime 21  جنوری‬‮  2015 |

ٹوکیو۔۔۔۔۔جاپان میں ایک شخص نے خواتین کی یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے پر یورنیوسٹی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔بینکاک پوسٹ کی رپورٹ میں اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے اور یہ ملک کے جنوب مغربی علاقے میں واقع فوکوکا یونیورسٹی برائے خواتین میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔جاپان کی کیدو نیوز ایجنسی کے مطابق اس خطے میں واحد سرکاری یونیورسٹی ہے جہاں پر وہ کورسز پڑھائے جاتے ہیں جن میں یہ شخص داخلہ لینا چاہتا تھا تاہم اس کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔اس شخص نے یونیورسٹی کے فیصلے کو جنسی تعصب قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔جاپان کے آئین کے مطابق عوام میں جنس کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جا سکتی اور تعلیم حاصل کرنا سب کا یکساں حق ہے۔اس شخص نے فوکوکا کی ضلعی عدالت میں دائر اپنے کیس میں کہا ہے کہ ایک سرکاری یونیورسٹی پر عوام کا حق ہوتا ہے اور اسے ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن سے چلایا جاتا ہے۔’اگر میری درخواست مسترد کی جاتی ہے تو اس صورتحال میں میرے غذائیات داں بننے کے راستے محدود ہو جائیں گے جس میں یا تو مجھے اپنے علاقے سے باہر کسی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے جانا پڑے گا یا کسی نجی کالج میں داخلہ لینا پڑے گا۔‘اس شخص کے وکیل کے مطابق ملکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ خواتین کی سرکاری یونیورسٹی کی آئینی حیثیت کو چلینج کیا گیا ہے۔اس شخص نے کیس میں استدعا کی ہے کہ یونیورسٹی نہ صرف اس کی درخواست کو منظور کرے بلکہ اس زرتلافی بھی ادا کرے۔گذشتہ سال نومبر میں جب اس شخص نے یونیورسٹی کے خلاف کیس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے کہا تھا:’ ہماری خواتین میں تعلیم کے فروغ کی 90 سالہ تاریخ ہے اور ہم خواتین کو قیادت کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کرنے کے حوالے سے تعلیم دینے پر کاربند رہیں گے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…