بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

بجلی کی کمی پورا کرنے والا جدید بلب تیار

datetime 13  جنوری‬‮  2016 |

نیویارک(نیوز ڈیسک) تھامس ایڈیسن کے زمانے کے بنائے گئے بلب اگرچہ اب کافی ترقی کر چکے ہیں لیکن یہ بلب اب بھی بجلی کی بڑی مقدار ضائع کرتے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیوں کہ ایک امریکی کمپنی نے ایسا بلب ایجاد کرلیا ہے جو بلب روشن کرنے کے بعد بچ جانے والی توانائی کو ضائع ہونے سے بچا کر واپس بلب کو دے گا جس سے بلب روشنی دینے کا عمل جاری رکھے گا۔امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تھامس ایڈیسن کے ایجاد کردہ عام بلب میں ٹنگسٹن وائر سے بنا فلامنٹ بجلی کی مدد سے توانائی حاصل کرکے 2700 ڈگری سینٹی گریڈ پر بلب کو روشن کرتا ہے لیکن یہ انتہائی غیر مو¿ثر ہیں کیوں کہ یہ روشن ہونے کے اس عمل کے دوران صرف حاصل کردہ توانائی کا 2 سے 3 فیصد روشنی میں تبدیل کرتا ہے جب کہ باقی توانائی ضائع ہوجاتی ہے، ان بلبوں پر یورپی یونین ممالک سمیت کئی دیگر ممالک میں پابندی لگ چکی ہے اور وہاں لوگ اب کمپیکٹ فلوراسینٹ (سی ایف ایل) اور ایل ای ڈی بلب استعمال کر رہے ہیں جو پرانے بلبوں سے زیادہ بہتر کارگردگی دکھاتے ہوئے توانائی کا 13 فیصد استعمال کرلیتا ہے لیکن اب بھی توانائی کا بڑا حصہ ضائع ہورہا تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے امریکی تحقیق کے ادارے ایم آئی ٹی میں سائنس دان سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے ایسا بلب ایجاد کرلیا ہے جس نے قدیم بلب کی کمزوری یعنی بجلی کے ضائع ہونے کو اس کا مضبوط پوائنٹ بنا دیا ہے۔سائنس دانوں نے نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بلب کے فلامنٹ کے گرد ایک ایسا ڈھانچہ بنا دیا ہے جس میں استعمال ہونے والی تیکنیک بلب سے خارج ہونے والے انفراریڈ شعاعوں کو دوبارہ بلب کے فلامنٹ کی جانب منعکس کرتا ہے جو اسے جذب کر کے پھر روشن ہوجاتا ہے۔ یہ ڈھانچہ لائنٹ کنٹرولنگ کرسٹل کے پتلی لیئرز سے بنایا گیا ہے جو ایک جگہ جمع ہوجاتی ہیں جس سے نظر آنے والی ویو لینتھس کو گزرنے کا راستہ دیتی ہیں جب کہ انفراریڈ شعاعیں منعکس ہوکر فلامنٹ کی طرف منتقل ہوکر اسے روشن کرتی ہیں۔تحقیق کے بانی کا کہنا ہے کہ یہ تیکنک دراصل بلب سے خارج ہونے والی انفرا ریڈ روشنی کو ری سائیکل کرنے کا عمل ہے، اس تیکنیک کی مدد سے قدیم بلب 40 فیصد تک توانائی کے استعمال کے قابل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے یہ بلب سیورز اور ایل ای ڈی بلبوں سے تین گنا زیادہ بہتر کارگردگی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اس تیکنیک کی وجہ سے لوگ اب پھر ایک بار بلب کے دور کی طرف پلٹ آئیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…