منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جاپان نے ملازمین کے تعلقات بہتر بنانے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈ لیا،دفتروں میں بلیاں چھوڑ دیں

datetime 20  جنوری‬‮  2015 |
ٹوکیو۔۔۔۔دنیا کے گنجان ترین شہر ٹوکیو میں گھریلو جانور پالنا کسی عیاشی سے کم نہیں۔بات یہ بھی ہے کہ ٹوکیو کے بیشتر اپارٹمنٹس میں جانور پالنے پر پابندی عائد ہے۔ لہٰذا جانور پالنے کے خواہش مندوں کی اپنے پسندیدہ جانور کے ساتھ وقت گزاری کی خواہش کا پورا ہونا ا سان نہیں۔ اسی لیے شہر میں متعدد ’’ کیٹ کیفے‘‘ کْھل گئے ہیں جہاں لوگ بلّیوں کے ساتھ بیٹھ کر گرم و سرد مشروبات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی وہ نصف گھنٹہ گزار سکتے ہیں۔ چناں چہ اپنے پسندیدہ جانور کی ہمراہی میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی خواہش تشنہ رہ جاتی ہے۔اسی بات کے پیش نظر ایک جاپانی کمپنی کی انتظامیہ کو اپنے ملازمین کی تشنگی دور کرنے کا خیال ا یا۔ چناں چہ کمپنی کے دفاتر میں بلّیاں لاکر چھوڑ دی گئیں۔ فیرے کارپوریشن انٹرنیٹ پر مختلف خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔ اس کے مرکزی دفتر میں اب ملازمین کے علاوہ پیاری پیاری بلّیاں بھی مٹرگشت کرتی اور مختلف جگہوں پر براجمان نظر ا تی ہیں۔ انھیں کسی ایک کمرے تک محدود نہیں کیا گیا۔ وہ ا زادانہ جہاں چاہے ا جا سکتی ہیں۔کمپنی کے اس اقدام میں اس کا اپنا مفاد بھی پوشیدہ ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ جب سے بلیاں دفتر میں ا?ئی ہیںِ ان کا ذہنی و جسمانی دباؤ ( اسٹریس) کم ہوا ہے۔ فیرے کارپوریشن کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملازمین کی کارکردگی میں بھی بہتری ا?ئی ہے۔
بلّیاں دفتری امور میں رکاوٹ کا سبب بھی بنتی ہیں۔ یہ کمپیوٹرز بند کردیتی ہیں، تارچباڈالتی ہیں، دیواروں پر کھرونچے ڈال دیتی ہیں، کاغذات پھاڑ دیتی ہیں، جب بھی کوئی ملنے کے لیے دفترمیں ا?تا ہے تو ان کے بیگ میں گھس جاتی ہیں یا میزوں کے نیچے سوجاتی ہیں۔ اس سب کے باوجود ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ بالکل ڈسٹرب نہیں ہوتے۔

دفتر میں بلّیوں کی موجودگی نے ملازمین کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کوئی بھی ملازم ان کے بارے میں اپنے ہم کاروں سے اظہار خیال کیے بنا نہیں رہ سکتا۔ اس طرح ملازمین ایک دوسرے کے قریب ہوگئے ہیں اور ان کے ذہنی و جسمانی دباؤ میں بھی کمی ا?ئی ہے کیوں کہ جب ایک پیاری سے بلی ا?پ کی میز پر بیٹھی ہو تو ا?پ اپ سیٹ ہو ہی نہیں سکتے۔
دفتر میں بلیاں پالنے کے علاوہ انتظامیہ نے ملازمین کو اپنے پالتو جانور ساتھ لانے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ جن ملازمین نے کوئی جانور نہیں پال رکھا کمپنی انھیں ہر ماہ پانچ ہزار ین ’ کیٹ بونس ‘ کی مد میں دیتی ہے تاکہ وہ بلّی پال سکیں۔
فیرے کارپوریشن واحد کمپنی نہیں جو اپنے ملازمین کو اس نوع کی منفرد سہولیات فراہم کر رہی ہو۔ اور بھی کئی کمپنیوں نے ملازمین کو پالتو جانور اپنے ساتھ دفتر لانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ایک کمپنی تو پالتو جانور کی موت پر اس کی ا?خری رسومات کی ادائیگی کے اخراجات بھی برداشت کرتی ہے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…